مسیحی انفاس — Page 63
۶۳ شبهات دور ہو جاتے اور خواہ نخواہ مانا پڑتا بلکہ اور بھی خدائی کا ثبوت ملتا۔ اگر پیٹ ہی میں معجزے دکھانے شروع کر دیتے تو اور بھی معاملہ صاف ہو جاتا اور خواہ نخواہ ماننا کر دیتے تو اور ہو جاتا پڑتا۔ مگر بجائے اس کے کہ اس کی الوہیت کی کوئی عظمت ثابت ہوتی ۔ ہر پہلو سے اس کا نقص اور کمزوری ہی ثابت : ثابت ہوتی ہے۔ ملفوظات ۔ جلد ۴ صفحه ۴۴۴، ۴۴۵ ۵۱ اللہ تعالی کے نزدیک تعجب کی بات ہے ایک شخص انسانی جامہ میں ہو اور انسانی لوازم اور عوارض کے ماتحت ہو کس دلیل سے فوق العادت انسان اس کو مانا جا سکتا ہے ؟ صورت شکل سے یہ پہچاننا کہ سے فوق انسان اس جا سکتا ہے ؟ سے یہ وہ خدا ہے یہ تو سراسر خیال باطل اور محال ہے اور نصار نے بھی اس کے قائل نہیں ہوں عینی آدمی سے کچھ گے تو اب بجز اس کے کہ یہ دکھایا جائے کہ اس کے یہ افعال اور اعمال تھے جو انسانی طاقتوں بھی زیادہ نہیں۔ سے بڑھ کر ہیں اور جو اسے خدائی کا منصب یاد دلاتے ہیں اور کوئی مضبوط دلیل اس کی الوہیت کی ہو نہیں سکتی۔ اور یہ سودائے خام ہے۔ اسلام آج تک ڈنکے کی چوٹ سے ر پکار رہا ہے۔ إِنَّ مَثَلَ عِيسَی عِنْدَ اللهِ كَمَثلِ آدَمَ - یعنی جو اللہ کے نزدیک حقیقی الوہیت کا حقدار ہے اس لئے کہ جامع جمیع صفات کاملہ اور ہر قسم کے بشری ضعفوں اور مخلوقی عوارض و لوازم سے منزہ ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسی آدمی سے کچھ بھی زیادہ نہیں۔ یعنی اس میں سارے وہ لوازم اور عوارض موجود ہیں جو آدمی وہ میں پائے جاتے ہیں۔ جو شخص اس کی الوہیت کا مدعی ہے وہ معمولی آدمی سے بڑھ کر کا خواص اس میں دکھائے ۔ یہ بڑا بھاری قرضہ نصاری کی گردن پر ہے اور تیرہ سوبرس سے برابر چلا آتا ہے۔ ان کی غیرت کا اگر ان میں ہوتی یہ مقتضاء ہونا چاہئے تھا کہ اس خطر ناک الزام سے بری ہوتے کہاں یہ کہ وہ ایک شخص کو خدا اور الفامیکا ( ALPHA OMEGA ) کہیں اور کہاں یہ کہ اسلام مٹی سے بنے ہوئے آدمی سے کسی طرح بھی بڑھ کر اسے نہ مانے اور نہ ماننے دیے ۔ الحکم ۔ جلدے نمبر ۲۲ مورخہ ۷ اجون ۱۹۰۳ صفحه ۴ ۵۲ اگر بے باپ پیدا ہونا دلیل الوہیت اور اہمیت ہے تو پھر حضرت آدم علیہ السلام بدرجہ اولی اس کے مستحق ہیں کیونکہ نہ ان کی ماں ہے نہ ہے نہ باپ ۔ اور خدا تعالیٰ فرمایا ہوا دلیل نہیں۔