مسیحی انفاس — Page 62
۶۲ مجازی کلام۔ ۱۵۰ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خالق کی نسبت کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں تو کچھ شک نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی ہیں اور بلاشبہ عیسی مسیح خدا کا پیارا خدا کابر گزیدہ اور دنیا کانور اور ہدایت کا آفتاب اور جناب الہی کا مقرب اور اس کے تخت کے نزدیک مقام رکھتا ہے اور کروڑہا انسان جو اس سے سچی محبت رکھتے ہیں اور اس کی وصیتوں پر چلتے ہیں اور اس کی ہدایات کے کار بند ہیں رہ جہنم سے نجات پائیں گے لیکن با ایں یہ سخت غلطی اور کفر ہے کہ اس بر گزیدہ کو خدا بنایا جائے ۔ خدا کے پیاروں کو خدا سے ایک بڑا تعلق ہوتا ہے۔ اس تعلق کے لحاظ سے اگر وہ اس تعلق کے سے وہ اپنے تئیں خدا کا بیٹا کہہ دیں کہ خدا ہی ہے جو ان میں بولتا ہے اور وہی ہے جس کا جلوہ ہے تو یہ باتیں بھی کسی حال کے موقع میں ایک معنے کے رو سے صحیح ہوتے ہیں جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ انسان جب خدا میں فنا ہو کر اور پھر اس کے نور سے پرورش پا کر نئے سرے ظاہر ہوتا ہے تو ایسے لفظ اس کی نسبت مجازاً بولنا قدیم محاوره اهل معرفت ہے کہ وہ خود نہیں بلکہ خدا ہے جو اس میں ظاہر ہوا ہے لیکن اس سے در حقیقت یہ نہیں کھلنا کہ وہی شخص در حقیقت رب العالمین ہے۔ اس نازک محل میں اکثر عوام کا قدم پھسل جاتا ہے اور ہزار ہا بزرگ اور ولی اور اوتار جو خدا بنائے گئے وہ بھی دراصل انہیں لغزشوں کی وجہ سے بنائے گئے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب روحانی اور آسمانی باتیں عوام کے ہاتھ میں آتی ہیں تو وہ ان کی جڑ تک نہیں پہنچ سکتے۔ آخر کچھ بگاڑ کر اور مجاز کو حقیقت پر حمل کر کے سخت غلطی اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے۔ اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سواسی غلطی میں آجکل کے علماء سیجی بھی گرفتار ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بنا دیا جائے سو یہ حق تلفی خالق کی ہے۔ اشتهار ۲۵ مئی ۱۹۰۰ - مجموعه اشتہارات - جلد ۳ صفحه ۲۴۵،۲۴۴ سورہ فاتحہ میں جس خدا کو پیش کیا ہے دنیا کا کوئی مذہب اسے پیش نہیں کرتا۔ عیسائیوں نے جو خدا دکھایا ہے۔ اسکے مقابلہ میں ہم کہتے عیسائی مذہب اور اسلام ہیں۔ لَمْ يَلِدْ - وَلَمْ يُولد ہے۔ ہاں اگر مریم کے پیٹ میں واقعی خدا آگیا تھا تو چاہئے تھا کہ وہ پیٹ ہی میں مریم کو وعظ کرتے یم کو وعظ کرتے اور ایک لمبا - خدا کا جدا گانه تصویر لیکچر دیتے جس کو دوسرے لوگ بھی سن لیتے تو اس خارق عادت لیکچر کو سن کر سارے