مسیحی انفاس — Page 61
کہ مرض صریح ضعف دماغ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یا بعض اوقات کوئی رسولی دماغ میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اور بعض دفعہ کسی اور مرض کا یہ عرض ہوتی ہے۔ لیکن ان تمام یا جاتی کا محققین نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ اس مرض کا سبب جن بھی ہوا کرتے ہیں۔ قرآن شریف کا حضرت مسیح ابن مریم پر یہ بھی احسان ہے کہ اس کے بعض معجزات کا ذکر تو کیا۔ لیکن یہ نہیں لکھا کہ وہ مرگی زدہ بیماروں میں سے جن بھی نکالا کرتا تھا۔ اور قرآن شریف میں حضرت مسیح ابن مریم کے معجزات کا ذکر اس غرض سے نہیں ہے کہ اس سے معجزات ہے زیادہ ہوئے ہیں۔ بلکہ اس غرض سے ہے کہ یہودی اس کے معجرات قطعاً منکر تھے۔ اور اس کو فریبی اور مکار کہتے تھے۔ پس خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہودیوں کے دفع اعتراض کے لئے مسیح ابن مریم کو صاحب معجزہ قرار دیا۔ اور اسی حکمت کی وجہ سے اس کی ملک کا نام صدیقہ رکھا۔ کیونکہ یہودی اس پر ناجائز تہمت لگاتے تھے۔ نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۷۹،۳۷۸ ۴۸ کس طرح پر ہم مسیح کو مانیں کہ وہ خدا تھا۔ خدائی کا دعوی ان میں نہیں۔ صحف سابقہ کی پیش گوئیوں کے اپنے متعلق ہونے کا انہوں نے کوئی دعوی نہیں کیا۔ اور نہ سب صفات خدائی ۔ نہ اپنے متعلق ہونے کا کوئی ثبوت دیا۔ پھر سلب صفات خدائی کو ہم ان میں دیکھتے ہیں۔ قیامت کی بابت انہیں اقرار ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ باپ اور بیٹے کے باوجود متحد في الوجود ہونے کے ایک کا عالم دوسرے کا جلال ہونا قابل لحاظ ہے۔ تقدس کا یہ حال کہ خود کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو۔ صرف باپ ہی کو نیک ٹھہراتا ہے۔ پھر یہ اختلاف بھی باپ بیٹے کی عینیت کے خلاف ہے۔ صرف ابن کا لفظ ان کی خدائی کو ثابت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حقیقت اور مجاز میں باہم تفریق کرنے کے ہم مجاز نہیں ہو سکتے۔ کہ کہہ دیں کہ یہاں تو حقیقت مراد ہے اور فلاں جگہ مجاز ہے۔ یہی لفظ یا اس سے بھی بڑھ کر جب دوسرے انبیا اور راست بازوں اور قاضیوں پر بولا جاوے تو وہ نرے آدمی رہیں اور میچ پر بولا جاوے تو وہ خود خدا اور ابن بن جاویں۔ یہ تو انصاف اور راستی کے خلاف ہے۔ اور پھر گویا نئی شریعت اور نئی کتاب بناتا ہے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۳۲، ۱۳۳ ۔