مسیحی انفاس — Page 59
۵۹ جس قدر عظیم الشان تائیدی نشان پیش گوئیوں کے رنگ میں اب خدا نے میرے ہاتھ پر صادر کئے ہیں وہ ان کو دیکھ کر شرمندہ ہو جاتے اور اپنی پیش گوئیوں کا کہ زلزلے آئیں گے۔ مری اور قحط پڑیں گے یا مرغ بانگ دے گا کبھی مارے ندامت کے نام نہ لیتے۔ لملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۳۲ وہ خدا تھا تو کیوں اس نے بالکل نرالی طرز کے معجزات نہ دکھائے۔ میں نے تحقیق کر لیا معجزات ہے کہ ان کے معجزات کی حقیقت سلب امراض سے کچھ بھی بڑھی ہوئی نہ تھی۔ جس میں ھی ہوئی نہ تھی جس میں مسیح کے سورت کی آجکل یورپ کے مسمریزم کرنے والے اور ہندو اور دوسرے لوگ بھی مشاق ہیں اور حقیقت کے اور اور اور خیالات ایسے بے ہودہ اور سطحی تھے کہ صرع کے مریض کو کہتا ہے کہ اس میں جن گھسا ہوا ہے۔ حالانکہ اگر صرع کے مریض کو کونین - کچلہ ۔ فولاد دیں اور اندر دماغ میں رسولی نہ ہو تو وہ اچھا ہو جاتا ہے۔ بھلا جن کو مرگی سے کیا تا بھلا جن کو مرگی سے کیا تعلق۔ چونکہ یہودیوں کے خیالات ایسے ہو گئے تھے۔ ان کی تقلید پر اس نے بھی ایسا ہی کہہ دیا۔ اور یا یہ کہ ریا یہ کہ جیسے آجکل جادو ٹونے کرنے والے کرتے ہیں کہ بعض ادویات کی سیاہی سے تعویذ لکھ کر علاج کرتے ہیں اور بیماری کو جن بتاتے ہیں ویسے ہی اس نے کہہ دیا ہو۔ مجھے افسوس ہے کہ مسیح کے معجزات کو مسلمانوں نے بھی غور سے نہیں دیکھا اور عیسائیوں کی دیکھا دیکھی اور ان سے سن سن کر ان کے معنے غلط کر لئے ہیں۔ مثلاً اکمہ کا لفظ ہے۔ جس کے معنے شب کور کے ہیں۔ اور اب معنے یہ کر لئے جاتے ہیں که مادر زاد اندھوں کو شفا دیا کرتے تھے۔ حالانکہ یہ اکمہ وہ مرض ہے کہ جس کا علاج بکرے کی کلیجی کھانا بھی ہے اور اس سے بھی یہ اچھے ہو جاتے ہیں۔ لمفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۳۹ زیادہ تر افسوس ان عیسائیوں پر ہے جو بعض خوارق اسی کے مشابہ مگر ان سے ا ادنی حضرت مسیح میں سن سنا کر ان کی الوہیت کی دلیل ٹھہرا بیٹھے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کا مردوں کا زندہ کرنا اور مفلوجوں اور مجذوموں کا اچھا کرنا اپنے اقتدار سے تھا کسی دعا نہیں بن سکتا ہے سے نہیں تھا۔ اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ وہ حقیقی طور پر ابن اللہ بلکہ خدا تھا۔ لیکن درن خوارق سے انسان خدا