مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 632

مسیحی انفاس — Page 57

۵۷ الى الجاهلية الأولى۔ اور پہلی جاہلیت کی طرف مائل ہو گیا۔ (نور الحق، روحانی خزائن مجلد ۸ ص ۹ الی (۱۲) مردوں کا زندہ ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بھی قرآن شریف میں ۴۱ مردے زندہ کرنا دلیل مذکور ہے ۔ مگر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مردے زندہ کرنے کو روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی رنگ میں۔ اور اسی طرح حضرت عیسیٰ کا مردے زندہ کرنا الوہیت نہیں۔ بھی روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ ہیں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی طور پر ۔ اور یہ امر کوئی حضرت عیسیٰ تک بچے ہی محدود نہیں بلکہ بائبل میں لکھا ہے کہ ایلیا نبی نے بھی بعض مردے زندہ کئے تھے بلکہ وہ آنحضرت کا مردے زندہ کرنا ثابت ہے۔ حضرت عیسی سے اس کام میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اگر فرض محال کے طور پر ہم مان بھی لیں کہ بائبل میں حضرت عیسی کا حقیقی مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر ہے تو پھر ساتھ ہی ایلیا نبی کو بھی خدا ماننا پڑے گا۔ اس میں حضرت عیسی کی خدائی کی خصوصیت ہی کیا ہوئی ۔ اور ما بہ الامتیاز کیا ہوا ۔ بلکہ یسعیاہ نبی کے متعلق تو یہاں تک بھی لکھا ہے کہ مردے ان کے جسم کو چھو جانے پر ہی زندہ ہو جایا کرتے تھے۔ ان باتوں سے جو کہ اس بائبل میں درج ہیں صاف شہادت ملتی ہے کہ مردوں کا زندہ کرنا حضرت مسیح کی خدائی کے واسطے کوئی دلیل نہیں ہو سکتا اور اگر اس کو دلیل مانا جاوے تو کیوں ان دوسرے لوگوں کو بھی جنہوں نے حضرت مسیح سے بھی بڑھ کر یہ کام کیا خدا نہ مانا جاوے اور خدائی کا خاصہ صرف حضرت مسیح کی ذات تک ہی محدود و مخصوص رکھا جاوے۔ بلکہ ہمارے حضرت موسی ۴ کا خیال میں تو حضرت موسیٰ کا سونٹے سے سانپ بنانے کا معجزہ مردے زندہ کرنے سے بھی موت زندہ کر یا بیت کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ مردہ کو زندہ - ہ کو زندہ سے ایک تشبیہ اور لگاؤ بھی ہے کیونکہ وہی چیز بھی زندہ ہے! تھی اور مردے میں زندہ ہونے کی ایک استعداد خیال کی جاسکتی ہے۔ مگر سانپ کو سونٹے سے کوئی بھی نسبت اور تعلق نہیں ہے۔ وہ ایک نبات کی قسم کی چیز اور وہ سانپ۔ تو یہ سونٹے کا سانپ بن جاتا تو مردوں کے زندہ ہو جانے سے نہایت ہی عجیب بات ہے۔ لہذا حضرت موسیٰ کو بڑا خدا ماننا چاہئے ۔ مگر حقیقی اور اصلی بات یہ ہے کہ ہم حقیقی مردوں کی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ ہے۔ ملفوظات ۔ جلد ۱۰ صفحه ۲۱۵ ۲۱۶