مسیحی انفاس — Page 56
۵۶ صفت خلق کیا تھی۔ اختارهما العليم الحكيم وترك لفظ يصير و حيا ۔ فثبت من ههنا ان الله ما اراد میں غور کرو کہ کیوں اس عظیم حکیم نے انھیں دونوں لفظوں کو اختیار کیا اور لفظ يصير حیا کو چھوڑ دیا سو اس جگہ ثابت ہوا کہ اس جگہ ههنا خلقا حقيقيا كخلقه عز وجل۔ ويؤيده ما جاء في كتب التفسير من بعض خداتعالی کی مراد حقیقی خلق نہیں ہے اور وہ خالفت مراد نہیں ہے جو اس کی ذات سے مخصوص ہے اور اس کی تائید وہ بیانات کرتے ہیں جو بعض الصحابة أن طير عيسى ما كان يطير الا امام اعين الناس، فإذا غاب سقط على صحابہ سے تفسیروں میں بیان ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ عیسائی کا پرنده ای وقت تک پرواز کر تا تھا جب تک کہ وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے رہتا الارض ورجع الى اصله كعصا موسى۔ وكذلك كان احياء عيسى، فاين الحياة تھا اور جب غائب ہوتا تھالو گر جاتا تھا اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرتا تھا جیسے عصاموی کالور عیسی کا مردوں کو زندہ کر نا بھی ایسا ہی تھا سو اس الحقيقي؟ فلاجل ذلك اختار الله تعالى في هذا المقام ألفاظ تناسب الاستعارات جگہ حیات حقیقی کہاں ثابت ہوئی سواسی لیئے خدا تعالیٰ نے اس مقام پر وہ لفظ اختیار کئے جو استعارات کے مناسب حال تھے ليشير الى الاعجاز الذي بلغ الى حد المجاز۔ وذكر مجازاً ليبين اعجازا۔ فحمله تا کہ اس مجاز کی طرف اشارہ کرے جو اعجاز کی حد تک پہنچا تھا اور مجاز کو اس لئے ذکر کیا کہ تا ان کے معجزہ کو جو خارق عادت تھا بیان فرمادے الجاهلون المستعجلون على الحقيقة وسلكوه مسلك خلق الله من غير تفاوت ، مع پس اس مجاز کو جاہلوں نے حقیقت پر حمل کر دیا اور ایسے مرتبہ میں داخل کیا جو اللہ پیدائش کا مرتبہ ہے انه كان من نفخ المسيح وتأثير روحه من غير مقارنته دعاء۔ (كان الإحياء بالنفخ حالانکہ وہ صرف نفخ مسیح اور اس کی روح کی تاثیر سے تھا اور اس کے ہاتھ کوئی دعا نہیں تھی پھونک سے زندہ کرنا ایسا تھا كالإماتة بالنظر)۔ فهلكوا واهلكوا كثيرا من الجاهلين۔ جیسے نظر سے مارنا۔ سو ایسے سمجھنے والے ہلاک ہوئے اور بہتوں کو جاہلوں میں سے ہلاک کیا۔ والقرآن لا يجعل شريكا في خلق الله احدا ولو في ذباب او بعوضة ، بل يقول انه اور قرآن تو کسی کو خدا کی خالفت میں شریک نہیں کرتا اگر چہ ایک مکھی بنانے یا ایک مچھر بنانے میں شراکت ہو بلکہ وہ کہتا ہے واحد ذاتا وصفاتا، فاقرأوا القرآن كالمتدبرين۔ فالامر الذي ثبت عقلا ونقلا که خدا ذات و صفاتاً واحد لاشریک ہے سو تم قرآن کو ایسا پڑھو جیسا کہ تدبر کرنے والے پڑھتے ہیں۔ سو جو امر عقلا و نقلماً واستدلالا لا ينكره احد الا الذى ما بقى في رأسه مرة انسانية ولحق بالاخسرين و استدلال ثابت ہو گیا اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا بجز ایسے شخص کے جس کے سر میں انسانی دانشمندی کا مادہ نہیں رہا السافلين۔ ولا يقول احد كمثل هذه الكلمات الا الذى نسي طريق التوحيد ومال اور زیاں کاروں اور تحت انٹری جانیوالوں کے ساتھ جا ملا۔ اور ایسی باتیں کوئی منہ پر نہیں لائے گا مگر وہی جو توحید کی راہ کو بھول گیا۔