مسیحی انفاس — Page 55
۵۵ الجبال والربا۔ وعلماؤنا هؤلاء عقدوا لجهلاتهم الحبا، وصارت كلماتهم لزهر پکڑ گئے اور یہ ہمارے مولوی لوگ ان کے آگے ان کی باطل باتوں کے سننے کے لئے زانو باندھ کر بیٹھ گئے اور ان کی باتیں عیسائیوں کے بعض صفات میں فريتهم كالصبا۔ وجمعوا روايات واهية كحاطب ليل او طالب سيل ، ونصروا بيل شگوفوں کے لئے باد صبا کے حکم میں ہو گئیں اور بیہودہ اور ست روایتیں انہوں نے جمع کیں جیسے کوئی رات کو ہر ایک قسم کی خشک تر النصارى بكلماتهم۔ وقالوا ان المسيح منفرد ببعض صفاته ۔ وما وجد فيه من كمال لکڑی جمع کرتا ہے جیسے کوئی طوفان کا طالب ہوتا ہے اور انہوں نے نصاری کو اپنی باتوں سے مدد دی جیسا کہ انہوں نے کہا کہ مسیح ابن وجلال وعظمة فهو لا يوجد في غيره۔ انه كان على اعلى مراتب العصمة ، ما مسه مریم اپنی بعض صفات میں بیٹل ہے اور جو کمال اور بزرگیاں اس میں پائی جاتی ہیں اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں وہ ہی ایک ہے جو اعلی الشيطان عند تولده ، ومس غيره من الانبياء كلهم۔ ولا شريك له في هذه الصفة درجہ پر گناہوں سے پاک ہے شیطان نے اس کی پیدائش پر اس کو چھوا نہیں اور بجز اس کے سب نبیوں کو چھوا اور کوئی شیطان کے حتى خاتم النبيين۔ میں سے بیچ نہ سکا مگر ایک مسیح اور اس صفت میں نبیوں میں سے اس کا کوئی بھی شریک نہیں یہاں تک کہ خاتم الانبیاء بھی۔ اور خدا تعالی کی طرح وہ پرندوں کا بھی خالق تھا اور وقالوا انه كان خالق الطيور كخلق الله تعالى ، وجعله الله شريكه بإذنه۔ والطيور خدا تعالیٰ نے اپنے اذن سے اس کو اپنا شریک بنایا۔ سو وہ سب پرندے جو دنیا میں پائے جاتے ہیں دو قسم کے ہیں کچھ خدا کی پیدائش اور کچھ بیچ کی التي توجد في هذا العالم تنحصر في القسمين خلق الله وخلق المسيح۔ فانظر سو دیکھو کیونکر ابن مریم کو خالق بنا دیا۔ كيف جعلوا ابن مريم من الخالقين۔ ويشيعون في الناس هذه العقائد ولا يدرون اور لوگوں میں یہ عقائد شائع کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ان عقیدوں میں ما فيها من البلايا والمنايا، ويؤيدون المتنصرين وهلك بها الى الآن ألوف من کیا کیا بلائیں اور موتیں ہیں اور نصاری کو مدد پہنچا رہے ہیں۔ اور ان عقائد کی شامت سے اب تک ہزاروں انسان ہلاک ہو چکے الناس ، ودخلوا في الملة النصرانية بعد ما كانوا مسلمين ، وما كان في القرآن ذكر اور نصرانی مذہب میں داخل ہو گئے بعد اس کے جو وہ مسلمان تھے۔ اور قرآن میں مسیح کے خلقه على الوجه الحقيقي ، وما قال الله تعالى عند ذكر هذه القصة : فيصير حيا پرندے بنانے کا ذکر حقیقی طور پر کہیں بھی نہیں اور خدا نے اس قصہ کے ذکر کرنے کے وقت یہ نہیں فرمایا کہ فیصیر حیا بإذن الله ، بل قال فيكون طيرًا بإذن الله فانظروا لفظ يكون ولفظ طيراً لم بلکہ یہ فرمایا که فيكون طبيبا بإذن الله سولفظ فيكون اور لفظ طيرا باذن الله