مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 632

مسیحی انفاس — Page 54

۵۴ حضرت مسیح سے ایسے بڑھے کہ بموجب آپ کی کتابوں کے ہڈیوں کے چھونے سے مردے زندہ ہو گئے اور مسیح کے معجزات پراگندگی میں پڑے ہیں کیونکہ وہ تالاب جس کا یوحنا ۵ باب میں ذکر ہے۔ حضرت مسیح کے تمام معجزات کی رونق کھوتا ہے۔ اور پیش گوئیوں کا تو آگے ہی بہت نرم اور پتلا حال ہے اور پھر کسی عملی اور فعلی فضیلت کی رو سے حضرت مسیح کا افضل ہونا ثابت ہوا ۔ اگر وہ ضمنا افضل ہوتے تو حضرت یوحنا بجو خدا کے کسی اور سے اصطباغ ہی کیوں پاتے۔ اس کے روبرو اپنے گناہوں کا اقرار ہی کیوں کرتے اور انسان کو سجدہ مت نیک ہونے سے کیوں انکار کرتے۔ اگر الوہیت ہوتی تو شیطان کو یہ کیوں جواب دیتے کمه ۱۳۹ کہ لکھا ہے، بجز خدا کے کسی اور کو سجدہ مت کر ۔ جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۱ عیسائی صاحبان اس کوشش میں ہیں کہ مخلوق پرستی میں نہ صرف آپ بلکہ تمام دنیا کو داخل کرد کر دیں محض زبر دستی اور تحکم کے طور پر حضرت مسیح کو کو خدا خدا بنایا بنایا جاتا جاتا۔ ہے۔ ان میں کوئی بھی ایسی خاص طاقت ثابت نہیں ہوئی جو دوسرے نبیوں میں پائی نہ جائے بلکہ بعض دوسرے نبی معجزہ نمائی میں ان سے بڑھ کر تھے اور ان کی کمزوریاں گواہی دے رہی ہیں کہ وہ محض انسان تھے۔ انہوں نے اپنی نسبت کوئی ایساد عوامی نہیں کیا جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں اور جس قدر ان کے کلمات ہیں جن سے ان کی خدائی سمجھی جاتی ہے آپ میں کوئی بھی ایک ایسا سمجھنا غلط ایسا سمجھنا غلطی ہے۔ اس رنگ کے ہزاروں کلمات کلمات اللہ خدا کے نبیوں کے حق میں بطور ایسی خاص طاقت ثابت استعارہ اور مجاز کے ہوتے ہیں ان سے خدائی نکالنا کسی عقلمند کا کام نہیں بلکہ انہیں کا کام نہیں ہوتی جو دوسرے ہے جو خوانخواہ انسان کو خدا بنانے کا شوق رکھتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا انبیاء میں پائی نہ جائے۔ ہوں کہ میری وحی اور الہام میں ان سے بڑھ کر کلمات ہیں۔ پس اگر ان کلمات سے حضرت مسیح کی خدائی ثابت ہوتی ہے تو پھر مجھے بھی (نعوذ باللہ ) حق حاصل ہے کہ یہی دعوی میں بھی کروں۔ لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۳۵ اتخذوا العبد العاجز إلها، ونحتوا ابنا ، وابا ورسوا على خزعبلاتهم امثال اور ایک عاجز بندہ کو انہوں نے خدا ٹھہرایا اور اپنی طرف سے باپ اور بیٹا تراش لیا اور اپنی باطل باتوں پر پہاڑوں اور ٹیلوں کی طرح استحکام