مسیحی انفاس — Page 53
۵۳ اس نے اپنے شاگردوں کو حکم کیا کہ کسو سے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں ۔ اب انصاف سے کہیں کہ کیا یہ سچے ایمانداروں کا کام ہے اور ان کا کام ہے جو رسول اور مبلغ ہو کر دنیا تمام میں ایاداروں میں آتے ہیں کہ اپنے تئیں چھپائیں۔ جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۷ کا نہیں۔ ۳۶ الشان انسانوں کی انجیل کے جن مقامات کا آپ ذکر کرتے ہیں وہاں سیاق و سباق پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی خدائی کے ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں کیونکہ انجیل کی روتے وہ تو اس کی انسانیت ہی کو ثابت کرتے ہیں اور انسانیت کے لحاظ سے بھی اسے عظیم الشان حضرت مسیح کو عظیم انسانوں کی فہرست میں داخل نہیں کرتے۔ جب اسے نیک کہا گیا تو اس نے انکار فہرست میں شامل کرنا کیا۔ اگر اس کی روح میں بقول عیسائیاں کامل تطہر اور پاکیزگی تھی۔ پھر وہ یہ بات کیوں ہی مشکل ہے۔ کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو۔ علاوہ بریں یسوع کی زندگی پر بہت سے اعتراض اور الزام لگائے گئے ہیں اور جس کا کوئی تسلی بخش جواب آج تک ہماری نظر سے نہیں گزرا۔ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۳۷ ۳۷ توحید ماننے والوں میں ایک خاص رعب اور جلال ہوتا ہے جو بت پرست کو حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کا قلب ملزم کرتا رہتا ہے اور اس کے اعتقاد کی بنیاد علوم حقہ پر حضرت مسیح میں کوئی نہیں ہوتی بلکہ ظنیات اور اوہام پر ہوتی ہے۔ مثلاً عیسائیوں نے یسوع کو خدا غیر معمولی خوبی نہ اور بنالیا مگر کوئی ایسی خصوصیت آج تک دو ہزار برس ہونے کو آئے ہیں نہیں بتائی جو یسوع میں تھی۔ دو جوا ہو اور دوسرے انسانوں میں نہ ہو بلکہ جہاں تک انجیل کے بیان کے موافق یسوع کی حالت پر غور کرتے ہیں۔ اسی قدر اسے انسانی کمزوریوں کا بہت بڑا نمونہ پاتے ہیں۔ ملفوظات جلد ۸ صفحه ۱۳۷ ۳۸ آپکا یہ فرمانا کہ کونسانی مسیح کے مساوی ہے صرف اپنی خوش اعتقادی ظاہر کرنا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا حضرت موسی مسیح سے بڑھ کر نہیں جن کے لئے بطور تابع اور حضرت مسیح سے کئی مقتدی کے حضرت مسیح آئے اور ان کی شریعت کے تابع کہلائے۔ معجرات میں بعض نبی انبیاء افضل تھے ۔