مسیحی انفاس — Page 52
صاحب کی نعش گم ہونے اور مع جسم بہشت میں جانے کے بارے میں عیسائیوں کے مزخرفات کی نسبت بہت ہی قوی اور قابل توجہ ہیں۔ اور بلاشبہ انجیل کی وجوہ سے زبردست ہیں۔ کیونکہ اول تو وہ واقعات اسی وقت بالا والی جنم ساکھی میں لکھے گئے۔ ی بالاوالی جنم میں مگر انجیلیں یسوع کے زمانہ سے بہت برس بعد لکھی گئیں۔ پھر ایک اور ترجیح بادا نانک صاحب کے واقعہ کو یہ ہے کہ یسوع کی طرف جو یہ کرامت منسوب کی گئی ہے۔ تو یہ یر ہے در حقیقت اس ندامت کی پردہ پوشی کی غرض سے معلوم ہوتی ہے جو یہودیوں کے سامنے نے سامنے حواریوں کو اٹھانی پڑی۔ کیونکہ جب یہودیوں نے یسوع کو صلیب پر کھینچ کر پھر اس سے معجزہ چاہا کہ اگر وہ اب زندہ ہو کر صلیب پر سے اتر آئے۔ تو ہم اس پر ایمان لائیں گے۔ تو اس وقت یسوع صلیب پر سے اتر نہ سکا۔ پس اس وجہ سے یسوع کے شاگردوں کو بہت ہی ندامت ہوئی اور وہ یہودیوں کے سامنے مونہہ دکھلانے کے قابل نہ رہے۔ لہذا ضرور تھا کہ وہ ندامت کے چھپانے کے لئے کوئی ایسا حیلہ کرتے جس سے سادہ لوحوں کی نظر میں اس طعن اور ٹھٹھے اور ہنسی سے بچ جاتے۔ سو اس بات کو عقل قبول کرتی ہے کہ انہوں نے فقط ندامت کا کلنک اپنے مونہہ پر سے اتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی ۔ کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا یسوع کی نعش کو اس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہو گا اور پھر حسب مثل مشہور کہ خواجہ کا گواہ ڈڈو کہہ دیا ہو گا۔ کہ لو جیسا کہ تم درخواست کرتے تھے۔ یسوع زندہ ہو گیا۔ مگر وہ آسمان پر چلا گیا ہے لیکن یہ مشکلیں بابا نانک صاحب کے فوت ہونے پر سکھ صاحبوں کو پیش نہیں آئیں۔ اور نہ کسی دشمن نے ان پر یہ الزام لگایا اور نہ ایسے فریبوں کے لئے ان کو کوئی ضرورت پیش آئی۔ اور نہ جیسا کہ یہودیوں نے شور مچایا تھا کہ نعش چرائی گئی ہے کسی نے شور مچایا۔ سو اگر عیسائی صاحبان بجائے یسوع کے بابا نانک صاحب کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے تو کسی قدر معقول بھی تھا۔ مگر یسوع کی نسبت تو ایسا خیال صریح بناوٹ اور جعلسازی کی بدبو سے بھرا ہوا ہے۔ معیارا المذاہب روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۶۸ تا ۴۷۲ بعض دفعہ حضرت مسیح یہودیوں کے پتھراؤ سے ڈر کر ان سے کنارہ کر گئے۔ اور بعض دفعہ توریہ کے طور پر اصل بات کو چھپا دیا۔ اور متی ۱۶٫۲۰ میں لکھا ہے۔ تب ۱۳۵ ۵۲