مسیحی انفاس — Page 44
انہوں نے عبرانیوں کے خطوط اور بعض مقامات بائبل سے نکال کر پیش کئے ہیں مگر افسوس کہ وہ وہ یہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسی پیش گوئیاں جب تک ثابت نہ نہ کی جاویں کہ در حقیقت وہ صحیح ہیں اور ان کا مصداق حضرت مسیح نے اپنے تئیں ٹھہرا لیا ہے اور اس پر دلائل عقلی دی ہیں تب تک وہ کسی طور سے دلائل کے طور پر پیش نہیں ہو سکتیں بلکہ وہ بھی ڈپٹی صاحب کے دعاوی ہیں جو محتاج ثبوت ہیں۔ ان دعاوی کے سوائے ڈپٹی صاحب نے اب تک حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کرنے کے لئے کچھ بھی پیش نہیں کیا اور میں بیان کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح یوحنا، اباب میں صاف طور سے اپنے تئیں خدا کا بیٹا کہلانے میں دوسروں کا ہمرنگ سمجھتے ہیں اور کوئی خصوصیت اپنے نفس کے لئے قائم نہیں کرتے حلانکہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت مسیح کو کافر ٹھہرایا تھا ان کا سوال ہی تھا۔ اور یہی وجہ کافر ٹھہرانے کی بھی تھی کہ اگر آپ در حقیقت خدا کے بیٹے ہیں تو اپنی خدائی کا ثبوت دیجئے۔ لیکن انہوں نے کچھ بھی ثبوت نہ دیا۔ افسوس کہ ڈپٹی صاحب اس بات کو کیوں سمجھتے نہیں کہ کیا ایسا ہونا ممکن تھا کہ سوال دیگر و جواب دیگر ۔ اگر حضرت مسیح در حقیقت اپنے تئیں ابن اللہ ٹھہراتے تو ضرور یہی پیش گوئیاں وہ پیش کرتے جواب ڈپٹی صاحب پیش کر رہے ہیں اور جبکہ انہوں نے وہ پیش نہیں کیں تو معلوم ہوا کہ ان کا وہ دعوی نہیں تھا۔ اگر انہوں نے کسی اور مقام میں پیش کر دی ہیں اور کسی دوسرے مقام میں یہودیوں کے اس بار بار کے اعتراض کو اس طرح پر اٹھا دیا ہے کہ میں در حقیقت خدا یا خدا کا بیٹا ہوں اور یہ پیش گوئیاں میرے حق میں وارد ہیں اور خدائی کا ثبوت بھی اپنے افعال سے دکھلا دیا ہے تا اس متنازعہ فیہ پیش گوئی سے ان کو مخلصی حاصل ہو جاتی۔ تو برائے مہربانی وہ مقام پیش کریں۔ اب کسی طور سے آپ اس مقام کو چھپا نہیں سکتے۔ اور آپ کی دوسری تاویلات تمام رکیک میں سچ یہی بات ہے کہ مخصوص کا لفظ اور بھیجا گیا کا لفظ عہد عقیق میں اور نیز جدید میں عام طور پر استعمال پایا ہے۔ آپ پر یہ ایک ہمارا قرضہ ہے جو مجھے ادا ہوتا نظر نہیں آتا جو آپ نے حضرت مسیح کی خدائی کا توذ کر کیا لیکن ان کی خدائی کا معقولی طور پر کچھ بھی ثبوت نہ دے سکے۔ اور دوسرے خداؤں کی نسبت اس میں کچھ مابہ الامتیاز عقلی طور پر قائم نہ کر سکے۔ بھلا آپ فرماویں کہ عقلی طور پر اس بات پر کیا دلیل ہے کہ راجہ رام چندر اور راجہ کرشن اور بدھ خدانہ ہوں اور حضرت مسیح خدا ہوں ۔ اور مناسب ہے کہ اب بعد اس کے آپ بار بار ان پیش گوئیوں کا نام نہ لیں جو خود حضرت مسیح کی طرز ۴۴