مسیحی انفاس — Page 43
مصنوعی خداوں کی نسبت کیا امتیاز رکھتا ہے اور نیز عقل کب تسلیم کر سکتی ہے کہ تمام مدار رحمت کا خدا کے پھانسی دینے پر ہے اور جب ایک مرتبہ خدا مر گیا تو پھر اس کی زندگی سے امان اٹھ گیا اور اس پر کیا دلیل ہے کہ وہ پھر نہیں مرے گا؟ جو خدا ہو کر مر بھی سکتا ہے اس کی پوجا کرنا لغو ہے وہ کس کو بچائے گا جب اپنے تئیں بچانہ سکا۔ حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۷۰ ہے یہ تو ۱۳۱ ڈپٹی صاحب سے میرا یہ سوال تھا کہ آپ جو حضرت عیسی کو خدا ٹھراتے ہیں تو آپ کے پاس حضرت موصوف کی الوہیت پر کیا دلیل ہے کیونکہ جبکہ دنیا میں بہت سے فرقے کئی قوموں نے اپنے کی اور قومیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ انہوں نے اپنے اپنے پیشواؤں اور رہبروں کو خدا ٹھرارکھا پیشواوں کو خدا مانتا ہے پھر مسیح کی کیا خصوصیت ہے۔ جیسے ہندوؤں اور ا ں کا فرقہ اور بدھ مذہب کے لوگ اور وہ لوگ بھی اپنے اپنے پرانوں سے کہتا ہوں اور اور شاستروں کے رو سے ان کی خدائی پر منقولی دلائل پیش کیا کرتے ہیں بلکہ ان کے باقی نہ ہوں ؟ سے ان کی پر معجزات اور بہت سے خوارق بھی ایسی شد و مد سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کے پاس ان کی نظیر نہیں جیسے کہ راجہ رام چندر صاحب اور راجہ کرشن صاحب اور بر ہما اور بشن اور مہادیو اور اور برہم کی کرامات جو وہ بیان کرتے ہیں۔ آپ صاحبوں پر پوشیدہ نہیں تو پھر ایسی صورت میں ان متفرق خداؤں میں سے ایک سچا خدا ٹھہرانے کے لئے ضرور نہیں کہ بڑی بڑی معقولی دلائل کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دعوے میں اور منقولی ثبوتوں کے پیش کرنے میں تو سب صاحب آپ کے شریک ہیں۔ بلکہ منقولات کے بیان کرنے میں شریک غالب معلوم ہوتے ہیں۔ اور میں نے ڈپٹی صاحب موصوف کو صرف اسی قدر بات کی طرف توجہ نہیں دلائی بلکہ قرآن کریم سے عقلی دلائل نکال کر ابطال الوہیت مسیح پر پیش کئے کہ کے دعوے تو پیش کئے انسان جو اور تمام انسانوں کے لوازم اپنے اندر رکھتا ہے کسی طرح خدا نہیں ٹھہر سکتا۔ اور نہ کبھی یہ ثابت ہوا کہ دنیا میں خدا یا خدا کا بیٹا بھی نبیوں کی طرح وعظ اور اصلاح خلق کے ادا یا خدا کا پیار ہونے لئے آیا ہو۔ مگر افسوس کہ ڈیٹی صاحب موصوف نے اس کا کوئی جواب شافی نہ دیا میری جاتے ہیں لیکن دلیل طرف سے یہ پہلے شرط ہو چکی تھی کہ ہم فریقین دعوی بھی اپنی کتاب الہامی کا پیش کریں نہیں دی جاتی ۔ گے اور دلائل معقولی بھی اسی کتاب الہامی کی سنائی جائیں گی۔ مگر ڈپٹی صاحب موصوف نے بجائے اس کے کہ کوئی معقولی دلیل حضرت عیسی کے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے پر پیش کرتے دعوے پر دعوے کرتے گئے۔ اور بڑا ناز ان کو ان چند پیش گوئیوں پر ہے جو