مسیحی انفاس — Page 429
۴۲۹ آپ دکھ اٹھاتے ہیں۔ تا ان کے استھان میں صورت تفرقہ پیدا نہ ہو۔ اور بعض ہندو اپنے منہ پر تھیلی چڑھا کر رکھتے ہیں اور پانی پین کر پیتے ہیں۔ تا کوئی حیوان کے مونہہ کے اندر نہ چلا جائے اور اس طرح پر وہ کسی جیو گھات کے موجب نہ ٹہریں۔ اب دیکھئے اس کمال کار حم اور عفو انجیل میں کہاں ہے۔ لیکن باوجود اس کے کوئی عیسائی یہ رائے ظاہر نہیں کرتا کہ ہندو شاستر کی وہ تعلیم بے نظیر اور انسانی طاقتوں سے باہر ہے۔ پھر انجیل کی تعلیم کہ جو علم اور عفو اور رحم کی تاکید میں اس سے کچھ بڑھ کر نہیں۔ کیونکر بے نظیر ہو سکتی ہے۔ افسوس حضرات عیسائی ذرا نہیں سوچتے کہ اخلاقی امور کو کسی قدر شد دید سے بیان کرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ انسان ایسی شد و مد سے بیان نہیں کر سکتا۔ اور اگر مستلزم ہے تو کوئی برہان منطقی اس پر قائم کرنی چاہئے تا اس برہان کے ذریعہ سے ان انجیل کی تعلیم اور ہندووں کی پستک بے نظیر بن جائیں مگر جب تک کوئی دلیل بیان نہ ہو تب تک ہم کیونکر ایسی تعلیموں کا بے نظیر ہونا تسلیم کریں جن کے استخراج کے لئے صریح انسان کے نفس میں قوت پاتے ہیں۔ کیا ہم نراد عومی کسی دلیل کے بغیر تسلیم کر لیں ۔ یا ایک ۔ امر بدیہی البطلان کو حق محض مان لیں ۔ کیا کریں ؟ تو اب ظاہر ہے کہ یہ کیسا نکھا جھگڑا اور کس درجہ کی نادانی ہے کہ ایک بے اصل اور بے ثبوت بات پر اصرار کرتے ہیں۔ اور جو راستہ سیدھا اور صاف نظر آتا ہے اس پر قدم رکھنا نہیں چاہتے۔ براہین احمدیہ - روحانی خزائن جلدا صفحه ۳۹۵ تا ۴۰۸ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ہو لہ ہر جله و ۲۹۹ انجیل کی تعلیم کامل بھی نہیں چہ جائیکہ اس کو بے نظیر کہا جائے۔ تمام محققین کا اس ت پر اتفاق ہوچکا ہے کہ خلق کا کال مرتبہ صرف اس میں منحصر نہیںہو سکتا کہ ہر ہر محل میں عفو اور در گذر کو اختیار کیا جائے ۔ اگر انسان کو صرف عفو اور در گذر کا ہی حکم قوتوں کا علی محلہ یا تو پر ہو جاتے۔ دیا جاتا تو صدہا کام کہ جو غضب اور انتقام پر موقوف ہیں فوت ہو جاتے۔ انسان کی استعمال صورت فطرت کہ جس پر قائم ہو جانے سے وہ انسان کہلاتا ہے۔ یہ ہے کہ خدا نے اس کی سرشت میں جیسا عفو اور درگزر کی استعداد رکھتی ہے۔ ایسا ہی غضب اور انتقام کی ایساہی خواہش بھی رکھی ہے اور ان تمام قوتوں پر عقل کو بطور افسر کے مقرر کیا ہے ۔ پس انسان اپنی حقیقی انسانیت تک تب پہنچتا ہے جب فطرتی صورت کے موافق یہ دونوں طور کی