مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 632

مسیحی انفاس — Page 430

۴۳۰ قوتیں عقل کے تابع ہو کر چلتی رہیں۔ یعنی یہ قوتیں مثل رعایا کے ہوں اور عقل مثل بادشاه عادل ان کی پرورش اور فیض رسانی اور رفع تنازعہ اور مشکل کشائی میں مشغول رہے۔ مثلاً ایک وقت غضب نمودار ہوتا ہے اور حقیقت میں اس وقت حلم کے ظاہر ہونے کا موقعہ ہوتا ہے۔ پس ایسے وقت میں عقل اپنی فہمائش سے غضب کو فرو کرتی ہے اور علم کو حرکت دیتی ہے۔ اور بعض وقت غضب کرنے کا وقت ہوتا ہے اور اور علم کو علم پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے وقت میں عقل غضب کو مشتعل کرتی ہے اور حلم کو درمیان سے اٹھا لیتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ تحقیق عمیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسان اس دنیا میں بہت سی مختلف قوتوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور اس کا کمال فطرتی یہ ہے کہ ہر ایک قوت کو اپنے اپنے موقعہ پر استعم پر استعمال میں لاوے۔ غضب کی جگہ پر غضب - رحم کی جگہ پر رحم ۔ یہ نہیں کہ نرا حکم ہی حکم ہو اور دوسری تمام قوتوں کو معطل اور بیکار چھوڑ دے۔ لہ - براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلدا صفحه ۴۰۹ تا ۴۱۴ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ نیز دیکھیں۔ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۰ کیسی عظیم الشان بات ہے کہ آپ کو کوئی مقام ذلت کا کبھی نصیب نہیں ہوا۔ بلکہ ہر میدان میں آپ ہر طرح معتزز و مظفر ثابت ہوئے ہیں۔ رثابت ہوئے ہیں۔ لیکن بالمقابل اگر مسیح کی حالت کو مغز و انجیلی تعلیم کا قرآن دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کیسی ذلت پر ذلت نصیب ہوئی ہے۔ بسا اوقات تومعلوم ہوتا ہےکہ انہیں پر نصیب ہوئی ہے ایک سے مقابلہ عیسائی شرمندہ ہو جاتا ہو گا۔ جب وہ اپنے اس خدا کی حالت پر غور کرتا ہو گا جو انہوں نے فرضی اور خیالی طور پر بنایا ہوا ہے ۔ مجھے ہمیشہ تعجب اور حیرت ہوئی ہے کہ عیسائی اس تعلیم کو جو انجیل میں بیان ہوئی ہے اور اس خدا کو جس کے واقعات کسی قدر انجیل سے ملتے ہے اور نے ہیں۔ رکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اسے ترجیح کیونکر دیتے ہیں۔ مثلا یہی علیم ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دو ۔ اب اس کے تمام پہلوں پر غور کرو تو صاف نظر آجائے گا کہ یہ کیسی بودی اور نکمی تعلیم ہے۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان سے بچے خوش ہو جاتے ہیں ۔ بعض سے متوسط درجے کے لوگ اور بعض ۔ سے اعلی درجے کے لوگ۔ انجیل کی تعلیم صرف بچوں کا کھلونا ہے جس کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ