مسیحی انفاس — Page 428
۴۲۸ 4 بعض نا واقف عیسائی بوجہ اپنی نہایت سادہ لوحی کے کبھی کبھی یہ دعوی کر بیٹھتے ہیں کہ انجیل بھی اپنی تعلیم کے رو سے بے مثل و مانند ہے ۔ یعنی انسان اس کی مثل بنانے پر اپنی رو سے بے مثل ہے۔ کی مثل پر قادر نہیں۔ پس اس سے ثابت ہے کہ تعلیم اس کی خدا کا کلام ہے اور انجیل کی تعلیم کا بے مثل و مانند ہونا اس طرح پر بیان کرتے ہیں کہ اس میں عفو اور در گذر اور نیکی اور خود در گذر کی تعلیم احسان کے لئے بہت سی تاکید ہے۔ اور ہر یک جگہ شتر کے مقابلہ سے منع کیا ہے۔ بلکہ انجیل بے مثل مانند بدی کے عوض نیکی کرنا لکھا ہے ۔ اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال بھی پھیر مطلب نہیں کہ دینے کا حکم ہے۔ پس اس دلیل سے ثابت ہو گیا کہ وہ بے مثل و مانند اور انسانی طاقتوں سے برتر ہے۔ لاحول ولا قوہ تہ اسے حضرات ! یہ منطق آپ کہاں سے لائے۔ جس سے آپ یہ سمجھ بیٹھے کہ جن نصیحتوں میں حلم اور درگذر کی تاکید مزید ہو وہ بے نظیر ہو جایا کرتی ہیں۔ اور قومی بشریہ ایسی نصیحتوں کے بیان کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ یہی تو سمجھ کا پھیر ہے کہ اب تک آپ کو یہ بھی خبر نہیں کہ بے مثل و مانند کا لفظ کسی شے کی نسبت صرف انہیں حالتوں میں بولا جاتا ہے کہ جب وہ شے اپنی ذات میں ایسے مرتبہ پر واقعہ ہو کہ جس کی نظیر پیش کرنے سے انسانی طاقتیں عاجز رہ جائیں۔ آپ اپنے دعوی میں بار بار اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ انجیل میں ہر جگہ اور ہر موقعہ میں عفو اور در گذر کرنے کے لئے تاکید ہے۔ اور ایسی تاکید کسی دوسری کتاب میں نہیں۔ بھلا بہت خوب یوں ہی سہی۔ مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس قدر تاکید انسان نہیں کر سکتا۔ اور انسانی قوتیں ان تا کیدوں کے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا رحم اور عفو کی تاکید بت پرستوں کے پشتکوں میں کچھ کم ہے۔ بلکہ سچ پوچھو تو آر یہ قوم کے بت پرستوں نے رحم کی تاکید کو اس کمال تک پہنچایا ہے کہ بس حد ہی کر دی۔ ان کے ایک شاستر کا اشلوک اس وقت ہم کو یاد آیا انجیل کی اس تعلیم ہے۔ جس پر تقریباً سارے ہندووں کا عمل ہے اور وہ یہ ہے۔ انسا برمو سے بڑھ کر مندیوں دھرما۔ یعنی اس سے بڑا دھرم اور کوئی نہیں کہ کسی جاندار کو تکلیف نہ دی جائے۔ اسی میں نرمی کی تعلیم اشلوک کے رو سے ہندو لوگ کسی جاندار کو آزار دینا پسند نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ ہے سانپوں کے شر کا بھی مقابلہ نہیں کرتے۔ بلکہ بجائے ان کے شر کے ان کو دودھ پلاتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ اس پوجا کا نام ان کے مذہب میں ناگ پوجا ہے بعض ہندو اس قدر رحم دل ہوتے ہیں کہ بالوں میں جوئیں جو پڑ جاتی ہیں۔ ان کو بھی اپنے بالوں سے نہیں نکالتے۔ بلکہ ان کے آرام کی نظر سے اپنے تمام بدن کے بال نہیں کٹاتے۔ اور