مسیحی انفاس — Page 25
۲۵ یہودیوں کا اتفاق اس لئے مانگا جاتا ہے کہ وہ نبیوں کی اولاد اور نبیوں سے مسلسل طور پر تعلیم پاتے آئے۔ اور انجیل شریف کا بھی مقام شہادت دے رہا ہے کہ ہر ایک تعلیم نبیوں کی معرفت ان کو سمجھائی بلکہ حضرت عیسی خود شہادت دیتے ہیں کہ فقیہ اور بند پر تعلیم فریسی موسی کی گرمی پر بیٹھے ہیں جو کچھ وہ تمہیں ماننے کو کہیں وہ عمل میں لاؤ۔ لیکن ان پر کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں پر کرتے نہیں۔ متی ۲۳ باب ۱۔ ८ اس امر پر یہودیوں کا متفق ہونا کیوں ضروری اب حضرت مسیح کے اس فرمودہ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنے متبعین اور شاگردوں ہے۔ کو نصیحت فرمارہے ہیں کہ یہودیوں کی رائے عہد عتیق کے بارہ میں ماننے کے لائق ہے تم ضرور اس کو مانا کرو کہ وہ حضرت موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودیوں کی شہادت کو رد کرنا ایک قسم کی نافرمانی حضرت مسیح کے حکم کی ہے۔ اور ہے۔ یہودی یہ تو اپنی تفسیروں میں کہیں نہیں لکھتے کہ کوئی حقیقی خدا یا خدا کا بیٹا ئیگا۔ ہاں ایک بچے مسیح کے منتظر ہیں اور اس مسیح کو خدا نہیں سمجھتے۔ اگر سمجھتے ہیں تو ان کی کتابوں میں کے ہیں اور میت کو سے اس کا ثبوت دیں۔ جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۱۸ یہ پیش گوئیاں صرف زبردستی کی کی راہ راہ سے حضرت مسیح پر جمائی جاتی ہیں اور اور ایسے طور A کی یہ پیش گوئیاں نہیں ہیں کہ اول حضرت مسیح نے اپ پوری پیش گوئی نقل کر کے ان کا توریت کی پیش گوئیاں مصداق اپنے تئیں گھر آیا ہو اور مفسرین کا اس پر اتفاق بھی ہو اور اصل عبری زبان سے حضرت مسیح کو خدا مابت اسی طور سے ثابت بھی ہوتی ہوں سو یہ بار ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ جب تک آپ اس نہیں کرتیں۔ التزام کے ساتھ اسکو ثابت نہ کر دیں تب تک یہ بیان آپ کا ایک دعوے کے رنگ میں ہے جو خود دلیل کا محتاج ہے۔ چونکہ ہمیں ان پیش گوئیوں کی صحت اور پھر صحت تاویل اور پھر صحت ادعاء صحیح میں آپ کے ساتھ اتفاق نہیں ہے اور آپ مدعی صحت ہیں تو یہ آپ بر صحت ادعاء ت میں آپ کے ساتھ اتفاقی پر لازم ہو گا کہ آپ ان مراتب کو مصفا اور منفتح کر کے ایسے طور سے دکھلاویں کہ جس سے ثابت ہو جائے کہ ان پیش گوئیوں کی تاویل میں یہودی جو اصل وارث توریت کہلاتے ہیں وہ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور حضرت مسیح نے بھی تمام پیش گوئیاں جو آپ ذکر کرتے ہیں۔ بحوالہ کتاب و باب و آیت پورے طور پر بیان کر کے اپنی طرف منسوب کی ہیں اور آپ کی رائے کے مخالف آج تک کسی وارث توریت نے اختلاف بیان نہیں کیا اور