مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 632

مسیحی انفاس — Page 26

۲۶ ۹ صاف طور پر حضرت مسیح ابن مریم کے بارہ میں جن کو آپ خدائی کے رتبہ پر قرار دیتے ہیں قبول کر لیا ہے اور ان کے خدا ہونے کے لئے یہ ثبوت کافی سمجھ لیا ہے تو پھر ہم اس کو قبول کر لیں گے اور بڑے شوق سے آپ کے اس ثبوت کو سنیں گے۔ لیکن اس نازک مسئلہ کی زیادہ تصریح کے لئے پھر یاد دلاتا ہوں کہ آپ جب تک ان تمام مراتب کو جو میں نے لکھے ہیں بغیر کسی اختلاف کے ثابت کر کے نہ دکھلاویں اور ساتھ ہی یہود کے علماء کی شہادت ان پیش گوئیوں کی بناء پر حضرت ابن مریم کے خدا ہونے کے لئے پیش نہ کریں۔ تب تک یہ قیاسی ڈھکوسلے آپ کے کسی کام نہیں آسکتے۔ جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۰۱، ۱۰۲ حضرت مسیح علیہ السّلام کی الوہیت کے بارہ میں قرآن کریم میں بغرض رو کرنے خیالات ان صاحبوں کے جو حضرت موصوف کی نسبت خدا یا ابن اللہ کا اعتقاد رکھتے ہیں رو الوہیت میں بدلیل یہ آیات موجود ہیں ۔ ما المسيح ابن مریم الا رسول قد خلت من استقراء از قرآن کریم۔ قبله الرسل وامه صديقة كانا يا كلان الطعام انظر كيف نبين لَهُمُ الآيَتِ ۔ ثم انظر الى يؤفكون سیپاره ۶ رکوع ۴ ا یعنی مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ اور کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے بھی رسول آتے رہے ہیں۔ اور یہ کلمہ کہ اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں۔ قیاس استقرائی کے طور پر ایک ستدلال لطیف ہے کیونکہ قیاسات کے جمیع اقسام میں سے استقراء کا مرتبہ وہ اعلیٰ شان کا مرتبہ ہے کہ اگر یقینی اور قطعی مرتبہ سے اس کو نظر انداز کر دیا جائے تو دین و دنیا کا تمام سلسلہ بگڑ جاتا ہے۔ اگر ہم غور سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ حصہ کثیرہ دنیا کا اور از منہ گذشتہ کے واقعات کا ثبوت اسی استقراء کے ذریعہ سے ہوا ہے۔ مثلاً ہم جو کہتے ہیں کہ انسان منہ سے کھاتا اور آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا اور ناک سے سونگھتا اور زبان سے بولتا ہے۔ اگر کوئی شخص کوئی مقدس کتاب پیش کرے اور اس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ یہ واقعات زمانہ گذشتہ کے متعلق نہیں ہیں۔ بلکہ پہلے زمانہ میں انسان آنکھوں کے ساتھ کھایا کرتا تھا اور کانوں کے ذریعہ سے بولتا