مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 632

مسیحی انفاس — Page 24

نہ ہو۔ حالانکہ انجیل میں صریح تناقض ہے۔ مثلا مسیح کہتا ہے کہ باپ کے سوا کسی کو قیامت کا علم نہیں ہے۔ اب یہ کیسی تعجب خیز بات ہے کہ اگر باپ اور بیٹے کی عینیت ایک ہی ہے تو کیا مسیح کا یہ قول اس کا مصداق نہیں کہ دروغ گو را حافظہ نباشد ۔ کیونکہ ایک مقام پر تو دعوی خدائی اور دوسرے مقام پر الوہیت کے صفات کا انکار اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ انجیل میں مسیح پر بیٹے کا لفظ آیا ہے اس کے جواب میں ہمیں یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ انجیل محترف یا مبدل ہے بائبل کے پڑھنے والوں سے یہ ہر گز مخفی نہیں ہے کہ اس میں بیٹے کا لفظ کس قدر عام ہے۔ اسرائیل کی نسبت لکھا ہے که اسرئیل فرزند من است بلکه نخست زاده من است۔ اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا اور خدا کی بیٹیاں بھی بائبل سے تو ثابت ہوتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کے سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا اطلاق بھی ہوا ہے کہ تم خدا ہو اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا۔ اب ہر ایک منصف مزاج دانشمند غور کر سکتا ہے کہ اگر ابن کا لفظ عام نہ ہوتا تو تعجب کا مقام ہو تا لیکن جبکہ یہ لفظ عام ہے اور آدم کو بھی شجرہ ابناء میں داخل کیا گیا ہے اور اسرائیل کو نخست زادہ بتایا گیا ہے اور کثرت استعمال نے ظاہر کر دیا ہے کہ مقدسوں اور راست بازوں پر یہ لفظ حسن ظن کی بناء پر بولا جاتا ہے۔ اب جب تک صحیح پر اس لفظ کے اطلاق کی خصوصیت نہ بتائی جاوے کہ کیوں اس ابنیت میں وہ سارے راست بازوں کے ساتھ شامل نہ کیا جاوے اس وقت تک یہ لفظ کچھ بھی مفید اور موثر نہیں ہو سکتا کیونکہ جب یہ لفظ عام اور قومی محاورہ ہے تو مسیح پر ان سے کوئی نرالے معنی پیدا نہیں کر سکتا۔ میں اس لفظ کو مسیح کی خدائی یا امنیت یا الوہیت کی دلیل مان لیتا اگر یہ کسی اور کے حق میں نہ آیا ہوتا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے خوف سے کہتا ہوں کہ ایک پاک دل رکھنے والے اور نیچے کا نشنس رکھنے والے کے لئے اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہو سکتی اور ان الفاظ کی کچھ بھی وقعت نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت کر کے نہ دکھایا جاوے کہ کسی اور شخص پر یہ لفظ کبھی نہیں آئے اور یا آئے تو ہیں مگر مسیح ان وجوہات قوتیہ کی بناء پر اوروں یہ سے ممتاز اور خصوصیت رکھتا ہے ۔ یہ تو دورنگی ہے کہ مسیح کے لئے یہی لفظ آ۔ بنایا جاوے اور دوسروں پر اس کا اطلاق ہو تو وہ بندے کے بندے۔ لفظ آئے تو وہ خدا ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۲۹ تا ۱۳۱ ۲۴