مسیحی انفاس — Page 23
۲۳ اول کیا ان پیش گوئیوں کی بابت یہودیوں نے بھی جن کی کتابوں میں یہ درج ہیں یہی سمجھا ہوا تھا کہ ان سے تثلیث پائی جاتی ہے یا سیح کا خدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہواتھا دوم کیا سیح نے خود بھی تسلیم تسلیم کیا کیا کہ کہ یہ یہ پیش گوئیاں میرے ہی لئے ہیں۔ اور پھر اپنے عریانی وہ کو گوئیاں ایک خود آپ کو ان کا مصداق قرار دے کر مصداق ہونے کا عملی ثبوت کیا دیا ؟ اب اگر چہ یہ ایک جہاں نہیں کیں۔ لمبی بحث بھی ہو سکتی ہے کہ کیا در حقیقت وہ پیش گوئیاں اصل کتاب میں اسی طرح درج ہیں یا نہیں مگر اس کی چنداں ضرورت نہ سمجھ کر ان دو تنقیح طلب امور پر نظر کرتے ہیں۔ یہودیوں نے جو اصل وارث کہتا ہے یہودیوں نے جو اصل وارث کتاب توریت ہیں اور جن کی بابت خود مسیح نے کہا ہے کہ وہ موسی کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ کبھی بھی ان پیش گوئیوں کے یہ معنے نہیں کئے جو اپ یا یہودیوں نے ان پیش گوئیوں کے وہ معانی دوسرے عیس سے عیسائی کرتے ہیں اور وہ کبھی بھی مسیح کی بابت یہ خیال رکھ کر کہ وہ تثلیث کا ایک جزو ہے منتظر نہیں چنانچہ میں نے اس سے پہلے بہت واضح طور پر اس کے متعلق سنایا نہیں کئے جو موجودہ ہے۔ اور عیسائی لوگ محض زبر دستی کی راہ سے ان پیش گوئیوں کو حضرت مسیح پر جماتے عیسائی کرتے ہیں۔ ہیں جو کسی طرح بھی نہیں جمتی ہیں ورنہ علماء یہود کی کوئی شہادت پیش کرنی چاھئے کہ کیا وہ اس سے یہی مراد لیتے ہیں جو تم لیتے ہو۔ پھر انجیل پڑھ کر دیکھ لو ( وہ کوئی بہت بڑی کتاب نہیں ) اس میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ حضرت مسیح نے ان پیش گوئیوں کو پورا نقل کر کے کہا ہو کہ اس پیش گوئی کے میچ کے پورا کر کیا ہو اس پر روسے میں خدا ہوں اور یہ میری الوہیت کے دلائل ہیں۔ کیونکہ نراد عوامی تو کسی دانشمند کے نزدیک بھی قابل سماعت نہیں ہے۔ مسیح نے خود کبھی دعوی نہیں کیا تو کسی دوسرے کا خواہ مخواہ ان کو خدا بنانا عجیب بات ہے۔ دعومی اور اگر بفرض محال کیا بھی ہو تواس قدر تناقض ان کے دعوی اور افعال میں پایا جاتا ہے ان کے دعوی اور افعال میں پایا جاتا ہے۔ دینی اور فصول میں کہ کوئی عقلمند اور عقلمند اور خدا ترس ان کو پڑھ کر انہیں خدا نہیں کہہ سکتا۔ بلکہ کوئی بڑا عظیم الشان تائض ۔ انسان کہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انجیل کے اس دعوی کو رد کرنے کے لئے تو خود انجیل ی ہال کے وی کور کے لیے تو خودا ہی کافی ہے کیونکہ کہیں مسیح کا ادعا ثابت نہیں بلکہ جہاں ان کو موقعہ ملا تھا کہ وہ اپنی خدائی منوا لیتے وہاں انہوں نے ایسا جواب دیا کہ ان ساری پیش گوئیوں کے مصداق ہونے سے گویا انکار کر دیا اور ان کے افعال اور اقوال جو انجیل میں درج ہیں وہ بھی اسی کے موید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ خدا کے لئے تو یہ ضرور ہے کہ اس کے افعال اور اقوال میں تناقض