مسیحی انفاس — Page 22
۲۲ ہاں کسی ایسے خدا کی خبر دی گئی ہوتی جو عورت کے پیٹ سے پیدا ہونے والا تھا تو وہ حضرت خدا مسیح کی ایسی سخت مخالفت ہی کیوں کرتے یہاں تک کہ انہوں نے اس کو صلیب پر چڑھوا دیا۔ اور ان پر کفر کہنے کا الزام لگاتے تھے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امر کو ماننے کے لئے قطعا تیار نہ تھے۔ ملفوظات جلد ۸ صفحه ۲۵۵ نیز دیکھیں جنگ مقدس۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۹ لیکچر لدھیانہ ۔ جلد ۲۰ صفحہ ۲۸۹،۲۸۸ عیسائیوں میں ایسے فرقے بھی موجود ہیں جو مسیح کی الوہیت اور خدائی کے قائل نہیں اور نہ وہ تثلیث کو ہی مانتے ہیں جیسے مثلا یونی ٹیرین تو کیا وہ اپنے دلائل اور کو ہی یونی تو و توریت کی این پیش وجوہات انجیل سے بیان نہیں کرتے وہ بھی تو انجیل ہی پیش کرتے ہیں۔ اب اگر صراحتاً بلا تاویل انجیل میں مسیح کی الوہیت یا تثلیث کا بیان ہوتا تو کیا وجہ ہے کہ میں یا کا تو و الوہیت مسیح کے بارہ میں پیش کی جاتی یونی ٹیرین فرقہ اس سے انکار کرتا ہے۔ حالانکہ وہ انجیل کو اسی طرح مانتا ہے جس طرح گوئیوں کا تجزیہ جو ہیں۔ دوسرے عیسائی۔ جو پیش گوئیاں توریت کی پیش کی جاتی ہیں ان کے متعلق بھی ان لوگوں نے کلام کی ہے۔ اور ایک یونی ٹیرین کی بعض تحریریں بھی میرے پاس اب تک موجود ہیں۔ کیا انہوں نے ان ن کو کو نہیں پڑھا اور نہیں سمجھا۔ قرآن شریف نے کیا خوب کہا ہے۔ کل حزب بمالديهم فرحون میری مراد اس کے بیان کرنے سے صرف یہ ہے کہ تاویلات رکیکہ اور ظنی باتیں تو ایک باطل پرست بھی پیش کرتا ہے مگر کیا ہمارا فرض نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اس پر پورا غور کریں۔ یونی ٹیرین لوگوں نے تثلیث پرستوں کے بیانات ان پیش گوؤں کے متعلق سن کر کہا ہے کہ یہ قابل شرم باتیں ہیں جو پیش کرنے کے قابل نہیں ہیں اور اگر تثلیث اور الوہیت مسیح کا ثبوت اسی قسم کا ہو سکتا ہے تو پھر بائبل سے کیا ثابت نہیں ہو سکتا۔ لیکن ایک محقق کے لئے غور طلب بات یہ ہے کہ وہ ان کو پڑھ کر ایک امر تنقیح طلب قرار دے اور پھر اندرونی اور بیرونی نگاہ سے اس کو سوچے۔ اب ان پیش گوئیوں کے متعلق جہاں تک میں کہہ سکتا ہوں یہ امر قابل غور ہیں۔