مسیحی انفاس — Page 364
۳۶۴ ہے اس کا منزہ اور مقدس ہونا مانا جاتا ہے ۔ اس کی واحدانیت پھیلتی ہے۔ اس کی گم گشتم توحید قائم ہوتی ہے۔ اسی کتاب سے آپ لوگ مونہہ پھیرتے ہیں۔ بد قسمتی ہے یا یا نہیں؟ براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۳۶ تا ۴۴۵ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ جب اصل انجیل ہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے تو کیوں یہ امر قرین قیاس نہ مانا جائے کہ اس میں تحریف کی گئی ہے۔ کیونکہ مسیح اور اس کی ماں کی زبان عبرانی تھی ۔ جس ملک کی اسکی - جب انجیل ہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے تو میں رہتے تھے وہاں عبرانی بولی جاتی تھی۔ صلیب کی آخری ساعت میں مسیح کے منہ سے کیوں یہ امر قرین قیاس جو کچھ نکلا وہ عبرانی تھا۔ یعنی ایلی ایلی لما سبقتانی ۔ اب بتاؤ کہ جب اصل انجیل ہی کا پتہ الی لما - بتاؤ کہ نہ مانا جائے میں ور اسی کی ایس ای ندارد ہے تو اس ترجمہ پر کیا دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے اصل انجیل پیش کرو۔ اس صورت میں تو عیسائی یہودیوں سے بھی گر گئے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی اصلی کتاب کو تو گم نہیں کیا۔ پھر انجیل میں مسیح نے کہا ہے کہ ” میری انجیل “ اب اس لفظ پر غور کرنے سے بھی میری انجیل ! صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسودہ انجیل کا کوئی صحیح نے بھی لکھا ہو اور یہ تو نبی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ خدا کی وحی کو محفوظ کرے اور اس کی حفاظت کا کام دوسروں پر نہ ڈالے کہ وہ جو چاہیں سو لکھ لیں۔ ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۴۱ ان کی انجیلیں اس وجہ سے بھی قابل اعتبار نہیں کہ ان میں جھوٹ سے بہت کام لیا گیا ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ یسوع نے اتنے کام کئے ہیں کہ اگر وہ لکھتے جاتے تو وہ کتا بیں ہیں انا جیل میں جھوٹ سے دنیا میں نہ سما سکتیں۔ پس سوچو کہ یہ کس قدر جھوٹ ہے کہ جو کام تین برس کے زمانہ بہت کام لیا گیا ہے۔ میں سما گئے اور مدت قلیلہ میں محدود ہو گئے کیا وجہ کہ وہ کتابوں میں سمانہ سکتے۔ پھر ان ہی انجیلوں میں یسوع کا قول لکھا ہے کہ ” مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ " حالانکہ ان ہی ہے ” " کتابوں سے ثابت ہے کہ یسوع کی ماں کا ایک گھر تھا جس میں وہ رہتا تھا۔ اور سر رکھنے کہ کے کیا معنے ۔ گزارہ کے موافق اس کے لئے مکان موجود تھا۔ اور پھر انجیلوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ یسوع ایک مالدار آدمی تھا ہر وقت روپیہ کی تھیلی ساتھ رہتی تھی۔ جس