مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 632

مسیحی انفاس — Page 363

مسکی ان کو اٹھانی پڑی ہے۔ کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۹۳ ۳۶۳ وہ جال ہے اگر انجیل لفظاً ومعناً خدا تعالیٰ کا کلام ہوتا اور اس میں ایسی خوبیاں پائی جاتیں ایسی خوبیاں پائی جن کا انسان کے کلام میں پائے جانا ممتنع اور محال ہے ۔ تب وہ بلاشبہ بے نظیر ٹھہرتی ۔ مگر خوبیاں تو انجیل میں سے اسی زمانہ میں رخصت ہو گئیں گئیں جب جب حضرات عیسائیوں نے نفسانیت سے اس میں تصرف کرنا شروع کیا ۔ نہ وہ الفاظ رہے نہ وہ معانی رہے نہ وہ اناجیل محرف و مبدل حکمت نہ وہ معرفت سواب اے حضرات آپ لوگ ذرا ہوش سنبھال کر جواب دیں کہ ہیں۔ جب ایک طرف تکمیل ایمان بے مثل کتاب پر موقوف ہے ۔ اور دوسری طرف آپ لوگوں کا یہ حال ہے کہ نہ قرآن شریف کو مانیں اور نہ ایسی کوئی دوسری کتاب نکال کر دکھلاویں جو بے مثل ہو۔ تو پھر آپ لوگ کمال ایمان ویقین کے درجہ تک کیونکر پہنچ سکتے ہیں اور کیوں بے فکر بیٹھے ہیں۔ کیا کسی اور کتاب کے نازل ہونے کی انتظار ہے۔ یا بر ہمو جی بننے کا ارادہ ہے۔ اور ایمان اور خدا کی کچھ پرواہ نہیں۔ اب دیکھئے کہ قرآن شریف کی بے نظیری کے انکار نے آپ کو کہاں سے کہاں تک پہنچایا۔ اور ابھی ٹھہر لیئے اس پر ختم نہیں آپ کے اس اعتقاد سے تو خدا کی ہستی کی بھی خیر نظر نہیں آتی۔ کیونکہ جیسا ہم پہلے لکھ چکے ہیں یں۔ ۔ بڑا بھاری نشان خدا کی ہستی کا یہی ہے ہے کہ کہ جو جو کچھ اس کی طرف سے ہے وہ ایسی حالت بے نظیری پر واقعہ ہے کہ اس صانع بے مثل پر صانع بے مثل پر دلالت کر رہا ہے۔ اب جب کہ وہ بے نظیری انجیل میں ثابت نہ ہوئی اور قرآن شریف کو آپ لوگوں نے قبول نہ کیا تو اس صورت میں آپ لوگوں کو یہ ماننا پڑا کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ہے اس کا بے نظیر ہونا یہ ضروری نہیں۔ اور اس اعتقاد سے آپ لوگوں کو یہ لازم آیا کہ یہ اقرار کریں کہ جو چہ کہ جو چیزیں خدا کی طرف سے صادر ہیں ان کے بنانے میں کوئی دوسرا بھی قادر ہے۔ تو اس قول کے بموجب معرفت صانع عالم پر کوئی نشان نہ رہا۔ گویا آپ کے مذہب کا یہ خلاصہ ہوا کہ خدائے تعالی کی ہستی پر کوئی عقلی دلیل قائم نہیں ہو سکتی ۔ تو اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ کیا آپ کے دہریہ بننے میں کچھ کسر رہ گئی۔ کیا آپ لوگوں میں ایسی کوئی بھی روح نہیں کہ جو دہریہ بنے اس بار یک دقیقہ کو مجھے کہ قرآن سے انکار کرنا حقیقت میں رحمان پر حملہ ہے ۔ جس کتاب کے رو سے اس کی صفات کا بے مثل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس کے وجود کا پتہ لگتا