مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 632

مسیحی انفاس — Page 362

۳۶۲ ۱۲۴۴ کے بارہ میں بعض ۔ سبحان اللہ کیا بزرگ اور دریائے رحمت وہ کلام ہے جس نے مخلوق پرستوں کو پھر توحید کی طرف کھینچا۔ واہ کیا پیارا اور دلکش وہ نور ہے کہ جو ایک عالم کو ظلمت کدہ سے باہر و وہ لایا۔ اور بجز اس کے ہزار ہا لوگ عقلمند کہلا کر اور فلاسفر بن کر اس غلطی اور اس قسم کی بے شمار غلطیوں میں ڈوبے رہے۔ اور جب تک قرآن شریف نہ آیا کسی حکیم نے زور شور سے اس اعتقاد باطل کارڈ نہ لکھا اور نہ اس قوم تباہ شدہ کی اصلاح کی۔ بلکہ خود حکماء اس قسم کے صدہا نا پاک عقیدوں میں آلودہ اور مبتلا تھے جیسا پادری یوت صاحب لکھتے ہیں کہ حقیقت میں یہ عقیدہ تثلیث کا عیسائیوں نے افلاطون سے اخذ کیا ہے اور اس احمق یونانی کی غلط بنیاد پر ایک دوسری غلط بنیاد رکھ دی ہے۔ غرض خدا کا سچا اور کامل الہام عقل کا دشمن نہیں ہے بلکہ عقل ناقص نیم عاقلوں کی آپ دشمن ہے ۔ براہین احمدیہ - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۳۰۶ ، ۳۰۷ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱ پادری صاحبان کا ایک بڑا محقق شملہ نام کہتا ہے کہ یوحنا کی انجیل کے سوا باقی تینوں انجیلیں جعلی ہیں۔ اور مشہور فاضل ڈاڈ ویل اپنی تحقیقات کے بعد لکھتا ہے کہ دوسری صدی کے وسط تک ان موجودہ چار انجیلوں کا کوئی نشان دنیا میں نہ تھا۔ سیمرل کہتا ہے کہ انا جیل کے جعلی ہونے عہد نامہ یعنی انجیلیں نیک نیتی کے بہانہ سے مکاری کے ساتھ دوسری صدی کے ا ہے موجودہ عہد نام حقین کی آرا اور آخر میں لکھی گئیں۔ ایک اور پادری ایولسن نام انگلستان کا دینے والا کہتا ہے کہ متی کی یونانی انجیل دوسری صدی مسیحی میں ایک ایسے آدمی نے لکھی تھی جو یہودی نہ تھا۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس میں ، میں بہت سی غلطیاں اس ملک کے جغرافیہ کی بابت اور یہ ہے یہودیوں کی رسومات کی بابت ہیں۔ عیسائیوں کے محقق اس بات کے بھی مقر ہیں کہ ایک عیسائی اپنے مذہب کے رو سے انسانی سوسائٹی میں نہیں رہ سکتا اور نہ تجارت کر سکتا ہے کیونکہ انجیل میں امیر بننے اور کل کی فکر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ایسا ہی کوئی سچا عیسائی فوج میں بھی داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ دشمن کے ساتھ محبت کرنے کا حکم ہے۔ ایسا ہی اگر کامل عیسائی ہے تو اس کو شادی کرنا بھی منع ہے۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل ایک مختص الزمان اور مختص القوم قانون کی طرح تھی جس کو حضرات عیسائیوں نے عام ٹھہرا کر صدہا اعتراض اس پر وارد کرالئے۔ بہتر ہوتا کہ وہ کبھی اس بات کا نام نہ لیتے کہ انجیل میں کسی قسم کا کمال ہے۔ ان کے اس بیجا دعوے سے بہت سی خفت اور