مسیحی انفاس — Page 361
۳۶۱ ذریعہ ہیں۔ اور اگر ان سندوں کا انکار کیا جائے تو تمام تاریخی حالات قابل شک ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایک اور دلیل اس بات پر کہ یہ معجزات واقعی طور پر بچے تھے یہ ہے کہ ایسے اور پھر اس بات کہ یہ لوگوں پر نبی اسلام نے ( صلی اللہ علیہ وسلم) نہایت سخت لعنت کی ہے کہ جو جھوٹے علیہ طور پر آپ کی طرف معجزات منسوب کریں بلکہ صاف طور پر کہا ہے کہ جو میرے پر جھوٹ بولے اس کی سزا جہنم ہے۔ پس یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ ایسی سخت ممانعت کے بعد اس قدر جھوٹے معجزات بنائے جاتے ۔ " پھر وہی موقف لکھتا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر معزز گواہیاں اور سندیں نبی اسلام کے لئے پیش کی جاسکتی ہیں ایک عیسائی کی قدرت نہیں کہ ایسی گواہیاں یسوع کے معجزات کے ثبوت میں عہد جدید سے پیش کر سکے۔ اور اس سے زیادہ یا اس سے بہتر سندیں لاسکے ۔ " غرض فاضل عیسائی نے کسی قدر انصاف سے کام لے کر یہ تحریر کیا ہے۔ مگر پھر بھی اسلام کے فضائل اور اس کی سچائی کے ثبوت بیان کرنے کے لئے اسی قدر نہیں ہے جو بیان کیا گیا۔ کیونکہ قرآن شریف نے باوجود اس کے کہ اس کے عقائد کو دل مانتے ہیں اور ہر ایک پاک کا نشنس قبول کرتا ہے پھر بھی ایسے معجزات پیش نہیں کئے کہ کسی آئندہ صدی کے لئے قصوں اور ہے کہانیوں کے رنگ میں ہو جائیں بلکہ ان عقائد پر بہت سے عقلی دلائل بھی قائم کئے اور سے قرآن میں وہ انواع و اقسام کی خوبیاں جمع کیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر معجزہ کی حد تک پہنچ گیا۔ کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۹۰، ۹۱ ہاں دوسری الہامی کتابیں کہ جو محترف و مبدل ہیں ان میں نا معقول اور محال باتوں پر جھے رہنے کی تاکید پائی جاتی ہے جیسی عیسائیوں کی انجیل شریف۔ مگر یہ الہام کا قصور کا رہنے کی جاتی ہے کی ۲۴۳ نہیں۔ یہ بھی حقیقت میں عقل ناقص کا ہی قصور ہے۔ اگر باطل پرستوں کی عقل صحیح انجیل میں نامعقول اور ہوتی اور جو اس درست ہوتے تو وہ کاہے کو ایسی محترف اور مبدل کتابوں کی پیروی کرتے حمل باتوں پر تھے رہنے ہے۔ اور کیوں غیر متغیر اور کامل اور قدیم خدا پر یہ آفات اور مصیبتیں جائز رکھتے کہ گویا وہ ایک کی تائید پائی جاتی عاجز بچہ ہو کر نا پاک غذا کھاتا رہا۔ اور نا پاک جسم سے مجسم ہوا اور نا پاک براہ سے نکلا۔ اور دار الفنامیں آیا۔ اور طرح طرح کے دکھ اٹھا کر آخر بڑی بد بختی اور بد نصیبی اور نا کامی کی حالت میں ایلی ایلی کرتا مر گیا۔ آخر الہام ہی تھا جس نے اس غلطی کو بھی دور کیا