مسیحی انفاس — Page 360
pry ١٢٢٢ آسمانی نشانوں سے بے نصیب ہیں۔ ہے کہ انجیل خالص خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ پتے داری گانو کی طرح کچھ خدا کا کچھ انسان کا ہے۔ براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۳۹۳ تا ۳۹۵ حاشیه در حاشیه نمبر ۳ یوحنا باب ۲ آیت ۲۰ میں ہے کہ یہودیوں کو مسیح نے کہا تھا کہ ہیکل چھیالیس برس میں لیل عقلی دلائل اور بنائی گئی ہے۔ مگر یہودیوں کی کتابوں میں بتواتر یہ درج ہے کہ صرف آٹھ برس تک ہیکل طیار ہو گئی تھی۔ چنانچہ اب تک وہ کتابیں موجود ہیں ۔ پس یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ یہودیوں نے مسیح کو ایسا کہا تھا۔ اور خود یہ بات قرین قیاس بھی نہیں کہ ایسی مختصر عمارت جس کے بنانے کے لئے نہایت سے نہایت چند سال کافی تھے وہ چھیالیس برس تک بنتی رہی ہو۔ سو ایسے ایسے جھوٹھ انجیلوں میں ہیں جن کی وجہ سے ان کے مضامین قابل تک نہیں ۔ مثلا دیکھ نہیں ۔ مثلاً دیکھو کہ انجیل یوحنا باب ۱۴ آیت ۳۴ میں لکھا۔ لکھا ہے کہ میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ تم ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ حالانکہ یہ نیا حکم نہیں ۔ کیونکہ اخبار کی کتاب باب ۱۹ آیت ۱۸ میں ہی حکم لکھا ہے پھر وہ نیا کیونکر ہو گیا۔ تعجب کہ یہی انجیلیں ہیں جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ وہ پایہ اعتبار کے رُو سے احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جن کتابوں میں ایسے قابل شرم جھوٹ ہیں ان کو اسلام کی کتب احادیث سے کیا نسبت ہے۔ ریلینڈ صاحب اپنی کتاب اکاونٹ آف محمد نزم میں لکھتے ہیں کہ ” محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے معجزات نہایت مشہور عالم پر ہیز گار اور دانا محمدی فاضلوں نے اپنی بیشمار کتابوں میں درج کئے ہیں اور یہ فاضل ایسے تھے کہ کسی بات کو بغیر سخت امتحان اور بے انتہا جانچ پڑتال کے نہیں لیتے تھے اسی لئے ان کی روایات اس قابل نہیں کہ ان میں شک کیا جائے۔ تمام ملک عرب میں وہ مشہور ہیں۔ اور وہ واقعات عام طور پر باپ سے بیٹے کو اور ایک پشت سے دوسری پشت کو پہنچے ہیں۔ اسلام کی ہر ایک قسم کی کتا ہیں می کتابیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معجزات پر گواہی دیتی ہیں۔ پھر اگر اتنے بڑے اور دانا فاضلوں کی سند کو تسلیم تسلیم نہ کیا جائے تو پھر معجزات کے واسطے اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کیونکہ ایسی باتوں کے ثبوت کے لئے جو کہ ہمارے زمانہ سے پہلے یا ہماری نظروں سے دور واقع ہوئی ہیں صرف سندیں