مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 632

مسیحی انفاس — Page 365

۳۶۵ میں قیاس کیا جاتا ہے کہ دو دو تین تین ہزار روپیہ تک یسوع کے پاس جمع رہتا تھا۔ اور یسوع کے اس خزانہ کا یہودا اسکر یوطی خزانچی تھا ۔ وہ نالائق اس روپیہ میں سے کچھ چورا بھی لیا کرتا تھا۔ اور انجیلوں سے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ یسوع نے اس روپیہ میں سے کبھی کچھ اللہ بھی دیا تھا۔ پس کیا وجہ کہ باوجود اس قدر روپیہ کے جس سے ایک امیرانہ مکان بن سکتا تھا پھر یسوع کہتا تھا کہ ” مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں ۔ پھر تیسرا جھوٹ انجیلوں میں یہ ہے کہ مثلاً اپنی کتاب کے تیسرے باب میں لکھتا ہے کہ گویا پہلی کتابوں میں یہ لکھا ہوا تھا کہ وہ یعنی یسوع ناصری کہلائے گا حالانکہ نبیوں کی کتابوں میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں۔ پھر چو تھا جھوٹ یہ ہے کہ وہ ایک پیش گوئی کو خواہ نخواہ یسوع پر جمانے کے لئے ناصرہ کے معنے شاخ کرتا ہے۔ حالانکہ عبرانی میں ناصرہ سرسبز اور خوش منظر مکان کو کہتے ہیں نہ کہ شاخ کو ۔ اسی لفظ کو عربی میں ناضرہ کہتے ہیں۔ ایسے کہ ہی اور بہت جھوٹ ہیں جو خدا کی کلام میں ہر گز نہیں ہو سکتے۔ ہے یہ ایک ایسا امر تھا جو عیسائیوں کے لئے غور کرنے کے لائق تھا۔ کیا ایسی کتابیں قابل اعتماد ہیں جن میں اس قدر جھوٹ ہیں ؟!! کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۵، ۷۶ ٢٢٨ انجیلوں میں صرف اسی قسم کے جھوٹ جو یسوع کے اس حصہ عمر کے متعلق ہیں جن رف میں اس نے اپنے تئیں ظاہر کیا۔ بلکہ یسوع کی پہلی زندگی کی نسبت بھی انجیلوں کے لکھنے والوں نے عمداً جھوٹھ بولا ہے ۔ اور اس کے ان واقعات کو ظاہر کرنا انہوں ان جیل میں یسوع کی نے مصلحت نہیں سمجھا جو اس کی اس زندگی کے متعلق ہیں جو اس کے دعوے سے پہلے بہت سے پہلے کی گذر چکی تھی۔ حالانکہ ایسا شخص جس نے خدائی کا دعوی کیا تھا اس کی اس عمر کا وہ پہلا اور میں بڑا حصہ بھی بیان کرنے کے لائق تھا جس میں قریبا کل عمر اس کی کھپ چکی تھی اور صرف بقول عیسائیان تین برس اس کی عمر سے باقی رہ گئے تھے تا دیکھا جاتا کہ اس تھیں برس کی عمر میں کس طرح کے چال چلن سے اس نے زندگی بسر کی اور کس طور سے خدا کا ا نوٹ : متی نے اپنی انجیل کے باب پانچ یا پانچ میں ایک نہایت مکروہ جھوٹ بولا ہے۔ یعنی یہ کہ گویا پہلی کتابوں میں یہ حکم لکھاہواتھا کہ اپنے پڑوسی سے محت کر اور اپنے دشمن سے نفرت۔ حلانکہ یہ حکم کی پہلی کتاب میں موجود نہیں۔ اور پھر دوسرا جھوٹ یہ کہ اس قول کو یسوع کی طرف نسبت کیا ہے۔ منہ زندگی کے بارہ میں جھوٹ ہے۔