مسیحی انفاس — Page 331
۳۳۱ جب ان کو یہ چیزیں دکھلائی گئیں تو فوراً انہوں نے انکو پہچان لیا اور پھر یہی مورخ اپنی کتاب کے صفحہ چہارم کے بعد لکھتا ہے کہ عبد اللہ خان ہرائی کی رائے میرے نزدیک بہت قابل اعتبار ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :۔ ملک طالوت (سال کے دو بیٹے تھے ایک اور کا نام افغان دوسرے کا نام جالوت ۔ افغان اس قوم کا مورث اعلیٰ تھا۔ داؤد مسلیمان کی حکومت کے بعد بنی اسرائیل میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور فرقے فرقے الگ الگ بن گئے۔ بخت نصر کے زمانہ تک یہی حالت رہی ۔ بخت نصر نے چڑھائی کر کے ستر ہزار یہودی قتل کئے اور شہر تباہ کیا۔ اور باقی یہودیوں کو قید کر کے بابل لے گیا اس مصیبت کے بعد افغان کی اولاد خوف کے مارے جو دیا سے ملک عرب میں بھاگ کر چاہیے اور بہت عرصہ تک یہاں آبادسے ہے لیکن چونکہ پانی اور زمین کی قلت تھی اور انسان اور حیوان کو تکلیف تھی اس لئے انہوں نے ہندوستان کی طرف پہلے آنے کا ارادہ کیا۔ ابدالیوں کا ایک گروہ عرب میں پڑا رہا اور (حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانہ میں اُن کے ایک سردار نے اُن کا رشتہ خالد بن ولید سے قائم کیا ۔۔۔۔۔۔ جب ایران اہل عرب کے قبضہ میں آیا تو یہ قوم عرب سے نکل کر ایران کے علاقوں فارسی اور سے کرمان میں جا ہے۔ اور حملہ چنگیز خالی تک یہیں بستے رہے ۔ اسکے مظالم کی تاب نہ لاکر ابدالی فرقہ مکران سندھ اور ملتان کے راستے ہندوستان پہنچا۔ لیکن یہاں انھیں چین نصیب نہ ہوا ( آخر کار وہ کوہ سلیمان پر جا ٹھہرے۔ باقیماندہ ابدالی فرقے کے لوگ بھی یہاں جمع ہو گئے۔ ان کے چوبیس فرقے تھے جو افغان کی اولاد میں سے تھے۔ جس کے تین بیٹے تھے جن کے نام سرابند ( سرابان) ارکش (گرگشت، گرلن (بطان) ان میں ہر ایک کے آٹھ فرزند ہوئے جن کے نام پر پولیس قبیلے ہوئے ۔ ان کے نام مع قبائل یہ ہیں۔