مسیحی انفاس — Page 330
اه الله مغربی اسلامی مورخ افغانوں کو سلیمانی کہتے ہیں۔ اور کتاب سا ئیکلو پیڈیا آن انڈیا ایسٹرن اینڈ سدرن ایشیا مصنفه ای بیلفور جلد سوم میں لکھا ہے کہ قوم یہود ایشیا کے وسط جنوب اور مشرق میں پھیلی ہوئی ہیں۔ پہلے زمانہ میں یہ لوگ ملک چین میں بکثرت آباد تھے اور مقام یہ چو د صدر مقام ضلع شور ان کا معبد تھا۔ ڈاکٹر وولف جو بنی اسرائیل کے دس غائب شدہ فرقوں کی تلاش میں بہت مدت پھرتا رہا اُسکی یہ رائے یہ رائے ہے کہ اگر افغان اولاد یعقوب میں سے ہیں تو وہ یہودا اور بن یمین قبیلوں میں سے ہیں۔ ایک اور روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی لوگ راگ تا تار میں جلا وطن کر کے بھیجے گئے تھے اور بخارا۔ مرد اور خیوا کے متعلقہ علاقوں میں سلم نامی۔ افغان کا سب سے بڑا بیٹا اپنے وطن شام سے ہجرت کر کے غور مشکوہ کے ١٨٧ علاقہ میں جو ہرات کے قریب آباد ہوا ۔ اس کی اولاد افغانستان میں پھیل گئی۔ اور کتاب اے سائیکلو پیڈیا آف جیو گرافی مرتبہ جیمز برائیں ایک بھی ایس مطبوعہ لندن مشکلمہ کے صفحہ " میں لکھا ہے کہ افغان لوگ اپنا سلسلہ نسب سال بادشاہ اسرائیل سے ملاتے ہیں اور اپنا نام بنی اسرائیل رکھتے ہیں ۔ الگزنڈر بزنس کا قول ہے کہ افغان یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ وہ یہودی الاصل ہیں اتے ہی اورانا نام بنی اسرائیل کے ہیں۔ اگر وڈ شاہ بابل نے انہیں قید کر کے غور کے علاقہ میں لا بسایا جو کابل سے شمال مغرب میں واقع ہے ۔ یہ لوگ سال تک اپنے یہودی مذہب پر رہے۔ لیکن خالد بن عبد الله د غلطی سے ولید کی جگہ عبد اللہ لکھا ہوا ہے) نے اس قوم کے ایک سردار کی لڑکی سے بیاہ کر لیا۔ اور اُن کو اس سال میں دین اسلام قبول کرایا۔ اور کتاب ہسٹری آن افغانستان مصنفہ کرنیل جی بی میلسن مطبوعہ لندن حمله جیبی صفحہ ۳۹ میں لکھا ہو کہ عبداللہ خان ہراتی اور فرانسیسی سیاح فراگریانی مسرولیم جو نیز و ایک بڑا بحر عالم علوم شرقیہ گذرا ہے، اس بات پر متفق ہیں کہ افغان قوم بنی اسرائیل الاصل ہیں اور دس گم شدہ فرقوں کی اولاد ہیں۔ اور کتاب مسٹری آف دی افغانس مصنفہ جی پی فرائه فرانسیسی مترجم کتان ولیم جے سی مطبوعہ لندن را صفحہ میں لکھا ہے کہ شرقی مورخوں کی کثرت رائے یہی ہے کہ افغان قوم بنی اسرائیل کے دس فرقوں کی اولاد سے ہیں اور یہی رائے افغانوں کی اپنی ہے ۔ اور یہی مورخ اس کتاب کے صفحہ ہم میں لکھتا ہے کہ افغانوں کے پاس اس بات کے ثبوت کے لئے ایک دلیل ہے جسکو وہ یوں پیش کرتے ہیں کہ جب نادر شاہ ہند کی فتح کے ارادے سے پشاور پہنچاتے یوسف زئی قوم کے سرداروں نے اسکی خدمت میں ایک با قبل عبرانی زبان میں لکھی ہوئی پیش کی اور ایسا ہی کئی دوسری چیزیں پیش کیں جو ان کے خاندانوں میں اپنے قدیم مذہب کے یہ رسوم ادا کرنے کے لئے محفوظ چلی آتی تھیں۔ اس کیمر کے ساتھ یہودی بھی موجود تھے لئے گردو ۱۸۵۸