مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 632

مسیحی انفاس — Page 327

۳۲۷ کا نام معلوم ہوتا ہے جیسے آجکل ہزارہ کہتے ہیں اور جو علاقہ غور میں واقعہ ہے ۔ طبقات ناصری جس میں چنگیز خان کی فتوحات ملک افغانستان کا ذکر ہے اس میں لکھا ہے کہ شنبیسی خاندان کے عہد میں یہاں ایک قدیم آباد تھی جس کو بنی اسرائیل کہتے تھے اور بعض ان میں بڑے بڑے تاجر تھے۔ یہ لوگ امہ میں جبکہ محمد ینے اس زمانہ میں جبکہ سید نا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ نے رسالت کا اعلان کیا۔ ہرات کے مشرقی علاقہ میں آباد تھے ایک قریش سردار خالد ابن ولید نامی اُن کے پاس رسالت کی خبر لے کر آیا کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم) کے جھنڈے کے نیچے آئیں۔ پانچ پھر سردار منتخب ہو کر اُس کے ساتھ ہوئے جن میں بڑا ئیس تھا جس کا دوسرا نام کی ہے۔ یہ لوگ مسلمان ہو کر اسلام کی راہ میں بڑی جان فشانی سے لڑے اور فتوحات حاصل کیں اور انکی واپسی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انکو بہت تحفے دیئے اور اُن پر برکت بھیجی اور پیش گوئی کی کہ اس قوم کو عروج حاصل ہوگا۔ اور بطور پیش گوئی فرمایا کہ ہمیشہ ان کے سردار ملک کے لقب سے مشہور ہوا کریں گے۔ اور قیس کا نام عبدالرشید رکھ دیا اور پہچان کے لقب سے سرفراز کیا۔ اور لفظ پہطان کی نسبت افغان مؤلف یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ایک سریانی لفظ ہے جس کے معنے جہاز کا سکان ہے اور چونکہ نو مسلم قیس اپنی قوم کی رہنمائی کے لئے جہاز کے مُسکان کی طرح تھا اس لئے پہطان کا خطاب اسکو ملا۔ اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ کسی زمانہ میں غور کے افغان آگے بڑھے۔ اور علاقہ قندھار میں جو آجکل ان کا وطن ہے آباد ہوئے۔ غالباً اسلام کی پہلی صدی میں ایسا ظہور میں آیا ۔ افغانوں کا قول ہے کہ قیس نے خالد ابن ولید کی لڑکی سے نکاح کیا اور اس سے اس کے ہاں تین لڑکے پیدا ہوئے جن کا نام سر آبان ۔ پطان ۔ اور اس سے اسکے ہاں ہوئے۔ اور گر گشت ہیں۔ سر آبان کے دولڑکے تھے جن کے نام سچرچ ٹین اور کرش ٹین ہیں ۔ ہیں۔ کے تھے جن کے نام اور اور ان ہی کی اولا د افغان بینے بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ ایشیا کو چک کے لوگ اور اولاد