مسیحی انفاس — Page 326
اں اگریہ سوال ہو کہ کیونکر اورکس دلیل سے معلوم ہوا کہ اسرائیل کی برقع میں اس ملک میں آگئی تھیں تو اس کے جواب میں ایسے بدیہی ثبوت موجود ہیں کہ ان میں ایک اس کے باب میں ہی کہ انہیں ایک معمولی اور موٹی عقل بھی شبہ نہیں کر سکتی۔ کیونکہ یہ نہایت مشہور واقعات ہیں کہ بعض تو میں مثلاً افغان اور کشمیر کے قدیم باشندے در اصل بنی اسرائیل ہیں مثلاً الائی کوہستان جو ضلع ہزارہ سے دو تین دن کے راستہ پر واقع ہے اُس کے باشندے سے دو تین پر واقع ہے کے قدیم سے اپنے تئیں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ ایسا ہی اس ملک میں ایک دوسرا پہاڑ ہے جسکو کالا ڈاکہ کہتے ہیں۔ اس کے باشندے بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم بنی اسرائیل ہیں اور خاص ضلع ہزارہ میں بھی ایک قوم ہے جو اسرائیلی خاندان سے اپنے تئیں سمجھتے ہیں ایسا ہی چلاس اور کابل کے درمیان جو پہاڑ ہیں جنوب کی طرف شرقاً و غرباً ان کے باشندے بھی اپنے تئیں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ اور کشمیر کے باشند مل کی نسبت وہ رائے نہایت صحیح ثابت ہوتی ہے جو ڈاکٹر پر تیر نے اپنی کتاب سیرو سیاحت کشمیر کے دوسرے حصے میں بعض محقق انگریزوں کے حوالہ سے لکھی ہے۔ یعنی یہ کہ بلا شبہ کشمیری لوگ بنی اسرائیل ہیں اور اُنکے لباس اور چہرے اور بعض رسوم قطعی طور پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی خاندان میں سے ہیں۔ اور فارسٹر نامی ایک انگریز اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ جب میں کشمیر میں تھا۔ تو میں نے خیال کیا کہ میں ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ہوں۔ اور کتاب دی پیسز آن افغانستان مصنفہ ایچ ڈبلیو بلیو سی ایس آئی مطبوعہ تھا کر سپنگ اینڈ کو کا مکتہ میں لکھا ہے کہ افغان لوگ ملک سیریا سے آئے ہیں۔ بخت نصر نے انہیں قید کیا اور پرشیا اور میدیا کے علاقوں میں انھیں آباد کیا۔ ان مقامات سے کسی بعد کے زمانہ میں مشرق کی طرف نکل کر غور کے پہاڑی ملک میں جا بسے یہاں بنی اسرائیل کے نام سے مشہور تھے۔ اسکے ثبوت میں اور میں نبی کی پیشگوئی ہو کہ دس قو میں اسرائیل کی جو قید میں ماخوذ ہوئی تھیں۔ قید سے بھاگ کر ملک ارسارہ میں پناہ گزین ہوئیں۔ اور وہ اُسی ملک ۳۲۶