مسیحی انفاس — Page 328
مغربی اسلامی مورخ افغانوں کو سلیمانی کہتے ہیں۔ اور کتاب سا ئیکلو پیڈیا آف انڈیا ایسٹرن اینڈ سدرن ایشیا مصنفہ ای بیلفور جلد سوم میں لکھا ہے کہ قوم یہود ایشیا کے وسط جنوب اور مشرق میں پھیلی ہوئی ہیں۔ پہلے زمانہ میں یہ لوگ ملک چین میں بکثرت آباد تھے اور مقام یہ کچھ صدر مقام ضلع شور ان کا معبد تھا۔ ڈاکٹر وولف جو بنی اسرائیل کے دس غائب شدہ فرقوں کی تلاش میں بہت مدت پھرتا رہا اسکی یہ رائے ہے کہ اگر افغان اولاد یعقوب میں سے ہیں تو وہ یہودا اور اگ بن یمین قبیلوں میں سے ہیں۔ ایک اور روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی لوگ تا تار میں جلا وطن کر کے بھیجے گئے تھے اور بخارا ۔ مرد اور خیوا کے متعلقہ علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پرسٹر جان شہنشاہ تاتار نے ایک خط میں جو بنام الکسیس کام فی نس شہنشاہ قسطنطنیہ ارسال کیا تھا اپنے ملک تا تار کا ذکرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسی دریاد آموں کے پار بنی اسرائیل کے پسی قبیلے ہیں جو اگرچہ اپنے بادشاہ کے ماتحت ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن فی الحقیقت ہماری رعیت اور غلام ہیں۔ ڈاکٹر مور کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تاتاری قوم پوزن یہودی الاصل ہیں۔ اور ان میں اب تک یہودی مذہب کے قدیم آثار پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ ختنہ کی رسم ادا کرتے ہیں۔ افغانوں میں یہ روایت ہے کہ وہ دس گم شدہ بنی اسرائیلی قبائل ہیں۔ بادشاہ بخت نصر نے یروشلم کی تباہی کے بعد گرفتار کر کے غور کے ملک میں بسایا جو بامیان کے نزدیک ہے اور وہ خالد بن ولید کے آنے سے پہلے برابر یہودی مذہب کے پابند رہے۔ افغان شکل و شباہت میں ہر طرح سے یہود نظر آتے ہیں۔ اور اُن ہی کی طرح چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی بیوہ سے شادی کرتا ہے۔ ایک فرانسیسی سیاح فرائر نامی جب ہرات کے علاقہ میں سے گذر رہا تھا تو اس نے لکھا ہے کہ اس علاقہ میں بنی اسرائیل بکثرت ہیں اور اپنے یہودی مذہب کے ارکان کے ادا ۳۲۸