مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 632

مسیحی انفاس — Page 289

۲۸۹ ۲۲۵ اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۱۲۵ نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو چپ یا برس کی ہوئی ہے۔ اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی ہی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں۔ (۱) ایک یہ کہ انہوں نے کامل عمر پائی یعنے ایک سو چپ پیلا برس زندہ رہے۔ (۲) دوم یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی۔ اس لئے نبی ستیاں کہلائے ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر وہ صرف تینتیس برس کی عمر میں آسمان کی طرف اُٹھائے جاتے تو اس صورت میں ایک سوچیپ ایل برس کی روایت صحیح نہیں ٹھہر سکتی تھی اور نہ اس چھوٹی سی عمر میں تینتیس برس میں سیاحت کر سکتے تھے۔ اور یہ روائتیں نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے فرقوں میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ کنز العمال جو احادیث کی ایک جامع کتاب ہے اسکے صفحہ ہم میں ابو ہریرہ سے یہ حدیث لکھی ہو۔ اوحی اللہ نہ * تعالى إلى عيسى ان يأ عيسى انتقل من مكان إلى مكان لثلا تعرف فتودى یعنے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اسے عیسی ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل کرتا رہ یعنے ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف جا۔ تاکہ کوئی تجھے پہچان کر دکھ نہ ہے۔ اور پھر اسی کتاب میں جابر سے روایت کر کے یہ حدیث لکھی ہے۔ كان عيسى ابن مريم يسيم فاذا امسى اكل بقل الصحراء ويشرب الماء القراح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ہمیشہ سیاحت کیا کرتے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سیر کرتے تھے اور جہاں شام پڑھتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے۔ اور پھر اسی کتاب میں عبد اللہ بن عمر سی روایت ہے جس کی یہ لفظ ہیں ۔ قال احب شئ الى الله الغرباء قبل اي شي الغرباء۔ جلد دوم - جلد دوم ما