مسیحی انفاس — Page 288
یا خود شیطان ہوتا ہے سو حضرت مسیح پر یہ سخت نا پاک تہمتیں لگائی گئی تھیں۔ اور مطہرک کی پیش گوئی میں یہ اشارہ ہے کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خدائے تعالیٰ ان الزاموں سے حضرت مسیح کو پاک کرے گا۔ اور یہی وہ زمانہ ہے ۔ چه اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تطہیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی سے بھی عقلمندوں کی نظروں میں بخوبی ہو گئی ۔ کیونکہ آنجناب نے اور قرآن شریف نے گواہی دی کہ وہ الزام سب جھوٹے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام پر لگائے گئے تھے۔ تھے۔ لیکن یہ گواہی عوام کی نظرمیں نظری اور باریک تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کے انصاف نے بھی چاہا کہ جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو مصلوب کرنا ایک مشہور امر تھا اور امور بدیہی یہ شہودہ محسوسہ میں سے تھا اسی طرح تظہیر اور بریت بھی امور مشہورہ محسوسہ میں سے ہونی چاہئیے ۔ سواب اسی کے موافق ظہور میں آیا یعنے تطہیر بھی صرف نظری نہیں بلکہ محسوس طور پر ہوگئی اور لاکھوں انسانوں نے اس جسم کی آنکھ سے دیکھ لیا کہ حصہ پر اور اس آج حضرت علیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے ۔ اور جیسا کہ گلگت یعنی سری کے مکان پر حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا تھا ایسا ہی سری کے مکان پر یعنے سرینگر میں انکی قبر کا ہونا ثابت ہوا ۔ یہ عجیب بات ہے کہ دونوں موقعوں میں سری کا لفظ موجود ہے۔ یعنے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر کھینچے گئے اُس مقام کا نام بھی گلگت یعنے سری ہے اور جہاں اُنیسویں صدی کے اخیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ثابت ہوئی اس مقام کا نام بھی گلگت یعنے سری ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ گلگت کہ جو کشمیر کے علاقہ میں ہے یہ بھی سری کیطرف ایک اشارہ ہے۔ غالباً یہ شہر حضرت مسیح کے وقت میں بنایا گیا ہے اور واقعہ صلیب کی یاد گار مقامی کے طور پر اس کا نام گلگت یعنے سری رکھا گیا۔ جیسا کہ لائسہ جس کے معنے ہیں معبود کا شہر یہ عبرانی لفظ ہے اور یہ بھی حضرت صبح کے وقت میں آباد ہوا ہے ۔ مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۲ تا ۵۵ ۲۸۸