مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 632

مسیحی انفاس — Page 284

صلیبی موت سے نجات کے بارہ میں قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کی شہادتیں یہ دلائل جو آپ ہم اس باب میں لکھنے لگے ہیں بظاہر ان کی نسبت ہر ایک کو خیال پیدا ہوگا ہو گا کہ عیسائیوں کے مقابل پر ان وجوہات کو پیش کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ وہ لوگ قرآن شریف یا کسی حدیث کو اپنے لئے حجت نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن ہم نے محض اس غرض سے اُن کو لکھا ہے کہ تا عیسائیوں کو قرآن شریف اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ معلوم ہو۔ اور اُن پر یہ حقیقت کھلے کہ کیونکہ وہ سچائیاں جو صدہا برس کے بعد اب معلوم ہوئی ہیں وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے علیہ اور نے پہلے سے بیان کردی ہیں۔ چنا نچہ اُن میں سے کسی قدرویل میں لکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم الآية وما قتلوه يقينا الآية یعنے یہودیوں نے نہ حضرت مسیح کو در حقیقت قتل کیا اور نہ بذریعہ صلیب ہلاک کیا بلکہ اُن کو محض ایک شبہ پیدا ہوا کہ گویا کو پیدا ہوا کہ گویا حضرت عیسی صلیب پر فوت ہو گئے ہیں اور ان کے پاس وہ دلائل نہیں ہیں جن کی وجہ سے اُن کے وال اس بات پر مطمئن ہو سکیں کہ یقینا حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب پر جان نکل گئی تھی۔ مسیح ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ بظاہر صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے مارنے کا ارادہ کیا گیا مگر یہ محض ایک دھوکا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے ایسا خیال کر لیا کہ در حقیقت حضرت مسیح علیہ السلام کی جان صلیب پر نکل گئی تھی بلکہ خدا نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے جن کی وجہ سے ۲۸۴ ۲۲۳