مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 632

مسیحی انفاس — Page 285

۲۸۵ وہ صلیبی موت سے بچے رہا۔ اب انصاف کرنے کا مقام ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے یہود ب انصاف کرنے کا کہ جوکچھ اور نصاری کے برخلاف فرمایا تھا آخر کار وہی بات سچی نکلی۔ اور اس زمانہ کی اعلیٰ بات اور اعلیٰ درجہ کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح در حقیقت صلیبی موت سے بچائے گئے تھے۔ کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہودی اس بات کا جواب سے ہمیشہ دینے سے قاصر ہے کہ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی جان بغیر ہڈیاں توڑنے کے صرف کی جانب دو تین گھنٹہ میں نکل گئی۔ اسی وجہ سے بعض یہودیوں نے ایک اور بات بنائی ہے کہ ہم نے مسیح کو تلوار سے قتل کر دیا تھا۔ حالانکہ یہودیوں کی پرانی تاریخ کے رو سے مسیح کو تلوار کے ذریعہ سے قتل کرنا ثابت نہیں ۔ یہ اللہ تعالے کی شان ہے کہ مسے بچانے کے لئے اندھیرا ہوا۔ بھونچال آیا۔ پلا طوس کی بیوی کو خواب آئی ۔ سبت کے دن کی رات قریب آگئی جس میں مصلوبوں کو صلیب پر رکھنا روانہ تھا۔ حاکم کا دل بوجہ ہولناک خواب کے مسیح کے چھڑانے کے لئے متوجہ ہوا۔ یہ تمام واقعات خدا نے اس لئے ایک ہی دفعہ پیدا کر دیئے کہ تاسیح کی جان بچ جائے۔ اس کے علاوہ مسیح کو غشی کی حالت میں کر دیا کہ تا ہر ایک کو مردہ معلوم ہو۔ اور یہودیوں پر اس وقت ہیبت ناک نشان بھونچال وغیرہ کے دکھلا کر بند دلی اور خوف اور عذاب کا اندیشہ طاری کر دیا۔ اور یہ دھڑ کہ اس کے علاوہ تھا کہ سبت کی رات میں لاشیں صلیب پر نہ رہ جائیں۔ پھر یہ بھی ہوا کہ یہودیوں نے مسیح کو غشی میں دیکھ کر سمجھ لیا کہ فوت ہو گیا ہے۔ اندھیرے اور ی بھونچال اور گھبراہٹ کا وقت تھا۔ گھروں کا بھی اُن کو فکر پیڑا کہ شاید اس بھونچال اور اندھیرے سے بچوں پر کیا گذرتی ہوگی ۔ اور یہ دہشت بھی دلوں پر غالب ہوئی کہ اگر سے اور یہ پر شخص کا ذب اور کافر تھا جیسا کہ ہم نے دل میں سمجھا ہے تو اسکے اس دکھ دینے کے کہ ہم نے وقت ایسے ہولناک آثار کیوں ظاہر ہوئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ نارکلیوں ہیں ؟ لہذا انکے دل بے قرار ہو کر اس لائق نہ رہے کہ وہ مسیح کو اچھی طرح دیکھتے کہ آیا مر گیا