مسیحی انفاس — Page 278
میں کئی اٹھا ہے اس لئے انہوں نے پہرہ والوں کو رشوت دی تھی کہ تا عظیم الشان معجزه ی اُن کی قوم میں مشہور نہ ہو۔ تو کیوں یسوع نے جس کا یہ فرض تھا کہ اپنے اس معجزہ کی یہودیوں میں اشاعت کرتا۔ اُس کو مخفی رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اسکے ظاہر کرنے سے منع کیا۔ اگر یہ کہو کہ اُس کو پکڑے جانے کا خوف تھا تو میں کہتا ہوں کہ جب ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی تقدیر اُس پر وارد ہو چکی د ہو چکی اور وہ مرکز پھر جلالی جسم کے ساتھ زندہ ہو چکا تو اب اُسکو یہودیوں کا کیا خوت تھا۔ کیونکہ اب یہودی کسی طرح اکسیر قدرت نہیں پاسکتے تھے۔ اب تو وہ فانی زندگی سے ترقی پاچکا تھا۔ افسوس کہ ایک طرف تو اس کا جلالی جسم سے زندہ ہونا اورسواریوں کوملنا اور لیل کی طرف جانا اور پھر آسمان پر اٹھائے جانا بیان کیا گیا ہے اور پھر بات بات میں اس جلالی جسم کے ساتھ بھی بیویوں کا خوف ہے اُس ملک سے پوشیدہ طور پر بھاگتا ہو کہ تاکوئی یہودی دیکھ نہ لے اور جان بچانے کے لئے ستر کوس کا سفر جلیل کی طرف کرتا ہے۔ بار بار منع کرتا ہے کہ یہ واقعہ کسی کے پاس بیان نہ کرو کیا یہ جلالی جسم کے چین اور علامتیں ہیں ؟ نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی جلالی اور نیا جسم نہ تھا وہی زخم آلودہ جسم تھا جو جان نکلنے سے بچایا گیا۔ اور چونکہ یہودیوں کا پھر بھی اندیشہ تھا اس لئے برعایت ظاہر اسباب مسیح نے اس ملک کو کھوڑو یا اسکے مخالف چقدر باتیں بیان کی جاتی ہیں وہ سب کی سب بیہودہ اور خام خیال ہیں کہ پہرہ داروں کو یہودیوں نے رشوت دی کہ تم یہ گواہی دو کہ حواری لاش کو چرا کر لے گئے اور ہم سوتے تھے ۔ اگر وہ سوتے تھے تو ان پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ تم کو سونے کی حالت میں کیونکر معلوم ہوگیا کہ یسوع کی لاش کو چوری اٹھا لے گئے ۔ اور کیا صرف اتنی بات ہے کہ یشوع قبر میں نہیں کوئی عقلمند سمجھ سکتا تھا کہ وہ آسمان پر چلا گیا ہے کیا دنیا میں اور اسباب نہیں جن سے قبریں خالی رہ جاتی ہیں ؟ اس بات کا بار ثبوت تو میسج کے ذمہ تھا کہ وہ آسمان پر جانے کے وقت دو تین سو یہودیوں کو ملتا اور بلا طوس سے بھی ملاقات کرتا چلالی جسم کے ساتھ اس کو کس کا خوف تھا مگر اس نے یہ طریق اختیار نہیں ۲۷۸