مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 632

مسیحی انفاس — Page 277

۲۷۷ پر باقی نہیں رہیں۔ اور خود جس حالت میں بہت سی اور بھی کتابیں انجیل کے نام سے تالیف کی گئیں۔ تو ہمارے پاس کو ہمارے پاس کوئی پختہ دلیل اس بات پر نہیں کہ کیوں اُن دوسری کتابوں کے سب کے سب مضمون رو کئے جائیں اور کیوں ان انجیلوں کا نگل لکھا ہوا مان لیا جائے ۔ ہم خیال نہیں کر سکتے کہ کبھی دوسری انجیلوں میں اس قدر بے اصل مبالغات ہم لکھے گئے ہیں جیسا کہ ان چار انجیلوں میں عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو ان کتابوں میں مسیح کا پاک اور بے دارغ چال چلن مانا جاتا ہے اور دوسری طرف اس پر ایسے الزام لگائے جاتے ہیں جو کسی ماستبانہ کی شان کے ہرگز مناسب نہیں ہیں مثلاً اسرائیلی نبیوں نے یوں تو توریت کے منشاء کے موافق ایک ہی وقت میں ضد ہا بیویوں کو رکھانا پاکوں کی نسل کثرت سے پیدا ہو۔ مگر آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا ہ کسی نہ نے ان بے قیدی کا یہ نمونہ دکھلایا کہ ایک ناپاک بد کردار عورت اور شہر کی مشہور فاسقہ اسکے بدن سے اپنے ہاتھ لگائے اور اسکے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ملے اور اپنے بال اسکے پاؤں پر ملے اور وہ یہ سب کچھ ایک جوان ناپاک یہ کچھ خیال عورت سے ہونے دے اور منع نہ کرے۔ اسجگہ صرف نیک فنی کی برکت سے انسان ان اور ہام سے بچ سکتا ہے جو طبعاً ایسے نظارہ کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بہر حال یہ نمونہ دوسروں کے لئے اچھا نہیں ۔ غرض ان انجیلوں میں بہت سی باتیں ایسی بھری پڑی ہیں کہ وہ بتلا رہی ہیں شاگرد نہیں ہیں۔ مثلاً انجیل متی کا یہ قول یا اور یہ بات آجتک یہودیوں میں مشہور ہے" کیا اس کا لکھنے والا متی کو قرار دینا صحیح اور مناسب ہو سکتا ہے ؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس انجیل متی کا لکھنے والا کوئی اور شخص ہے جومستی کی وفات کے بعد گذرا ہے۔ پھر اسی انجیل متی بات آیت ۱۲ و ۱۳ میں ہے " تب انہوں نے یعنے یہودیوں نے بزرگوں کے ساتھ اکٹھے ہو کر صلاح کی اور ان پہرہ والوں کو بہت روپے دیئے اور کہا تم کہو کہ رات کو جب ور کہا تم ہو کہ اس کو جب ہم سوتے تھے۔ اُسکے شاگر دینے مسیح کے شاگرہم کر اُسے چرا کر لے گئے ۔ دیکھیں کیسی تھی اور نامعقول ۔ دیکھو او نا باتیں ہیں۔ اگر اس سے مطلب یہ ہے کہ یہودی اس بات کو پوشیدہ کرنا چاہتے تھے کہ لیسوع مردوں