مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 632

مسیحی انفاس — Page 276

رکھنے پر فوت نہیں ہوئے تھے اور خانی جسم کے تم لوازم ایک ساتھ تھے اور کوئی نئی تبدیلی انی میں پیدا نہیں ہوئی تھی اور آسمان پر چڑھنے کی کوئی عینی شہادت انجیل سے نہیں ملتی اور اگر ایسی شہادت ہوتی بھی تب بھی لائق اعتبار نہ تھی۔ کیونکہ انجیل نویسیوں کی یہ عادت معلوم ہوتی ہے کہ وہ بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہیں اور ایک ذرہ سی بات پر حاشیے چڑھاتے چڑھاتے ایک پہاڑ اس کو کر دیتے ہیں۔ مثلاً کسی انجیل نویس کے منہ سے نکل گیا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ اب دوسرا انجیل نویس اس فکر میں پڑتا ہے کہ اس کو پورا خدا بنا دے اور تیسرا تمام زمین آسمان کے اختیار اُسکو دیتا ہے اور چوتھا دانشگان کہ دیتا ہے کہ وہی ہے جو کچھ ہے اور کوئی وہ سرا خدا نہیں ۔ غرض اس طرح پر بھینچتے بھینچتے کہیں کا نہیں ہے لیجاتے ہیں۔ دیکھو وہ رویا جس میں نظر آیا تھا کہ گویا مردے قبروں میں سے اُٹھ کر شہر میں چلے گئے۔ اب ظاہری معنوں پر زور دیکر یہ جتلایا گیا کہ حقیقت میں مردے قبروں میں سے باہر نکل آئے تھی اور یہ علم شہر میں آکر اور لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اس جگہ غور کرو کہ کیسے ایک ایک پر کا کور بنایا گیا پھر وہ ایک کو ا نہ رہا بلکہ لاکھوں کو لے اُڑائے گئے۔ جس جگہ مبالغہ کا یہ حال ہو اُس جگہ حقیقتوں کا کیونکر پتہ لگے۔ غور کے لاتی ہے کہ ان انجیلوں میں جو خدا کی کتابیں کہلاتی ہیں ایسے ایسے مبالغات بھی لکھے گئے کہ مسیح نے وہ کام کئے کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جاتے تو وہ کتابیں جن میں وہ لکھے جاتے دنیا میں نہ سما سکتیں۔ کیا اتنا مبالغہ طریق دیانت و امانت ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہو کہ اگر مسیح کے کام ایسے ہی غیر محدود اور حد بندی سے باہر تھے تو تین برس کی حدیں کیونکر آگئے۔ ان انجیلوں میں یہ بھی خرابی ہے کہ یض پہلی کتابوں کے حوالے غلط بھی دیئے ہیں ۔ شجرہ نسب میچ کو بھی صحیح طور پر لکھ نہ سکے۔ انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی عقل کچھ موٹی تھی یہانتک کہ بعض حضرت مسیح کو بھوت سمجھ بیٹھے اور ان انجیلوں پر قدیم سے یہ بھی الزام چلا آتا ہے کہ وہ اپنی صحت و کوئی بیان نہیں کرتا کہیں اس بات کا گواہ ہوں اور میری آنکھوں نے دیکھا ہے کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے تھے۔ منظر ۲۷۶