مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 632

مسیحی انفاس — Page 273

۲۷۳ ہمارے اور گونگوں کی طرح بیٹھا رہے بلکہ ایسے موقعہ میں دوسرے لوگوں میں بھی فطرتا یہ جوش پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے پاس دوڑے آتے ہیں اور اس ملک کے حالات اس سے پوچھتے ہیں۔ اور اگر ایسا اتفاق ہو کہ ان لوگوں کے ملک میں کوئی غریب شکستہ حال وارد ہو جسکی ظاہری حیثیت غریبانہ ہو اور وہ دعوی کرتا ہو کہ نہیں اس ملک کے بادشاہ ہوں جسے پایہ تخت کا سیر کر کے یہ لوگ آئے ہیں۔ اور میں فلاں فلاں بادشاہ سے بھی اپنے شاہانہ مرتبہ میں اول درجہ پر ہوں تو لوگ ایسے سیاحوں سے ضرور پوچھا کرتے ہیں کہ بھا یہ تو بتلا ہے کہ فلان شخص ہو ان دنوں میں پہلے ملک میں اس ملک سے آیا ہوا ہے کیا سچ مچ یہ اس ملک کا بادشاہ ہے اور پھر وہ لوگ بھیسا کہ واقعہ ہو بتلا دیا کرتے ہیں تو اس صورت میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح کے ہاتھ سے مردوں کانہ نہ ہونا فقط اس حالت میں قابل پذیرائی ہوتا جبکہ وہ گواہی جو اُن سے پوچھی گئی ہوگی جس کا پوچھا جانا ایک طبعی امر ہے کوئی مفید نتیجه بخشتی لیکن اس جگہ ایسا نہیں ہے نیس ناچار اس بات کے فرض کرنے سے کہ مرنے زندہ ہوئے تھے اس بات کو بھی ساتھ ہی فرض کرنا پڑتا ہے کہ ان مردوں نے حضرت مسیح کے حق میں کوئی معنی گواہی نہیں دی ہوئی جس سے ان کی چائی تسلیم کیاتی بلکہ ایسی گواہی دی ہوگی جسے اور بھی فتنہ بڑھ گیا ہوگا۔ کاش اگر انسانوں کی جگہ دوسے چار پایوں کا زندہ کرنا بیان کیا جاتا تو اس میں بہت کچھ پردہ پوشی منصور تھی۔ مثلاً یہ کہا جاتا کہ حضرت میں نے کئی ہزار بیل نہ ندہ کئے تھے تو یہ بات بہت معقول ہوتی اور کسی کے اعتراض کے وقت جبکہ مذکورہ بالا اعتراض کیا جاتا لیتے یہ کہا جاتا کہ ان مردوں کی گواہی کا نتیجہ کیا ہوا تو ہم فی الفور کہہ سکتے کہ وہ تو بیل تھے اُنکی زبان کہاں تھی جو بھلی یا بری گواہی دیتے۔ بھلا وہ تو لاکھوں مردے تھے جو حضرت مسیح نے زندہ کئے آج مثلاً چند مہندوؤں کو بلا کر پوچھو کہ اگر تمہارے فوت شدہ باپ داد سے دس میں زندہ ہو کر دنیا میں واپس آجائیں اور گواہی دیں کہ فلاں مذہب سچا ہے تو کیا پھر بھی تم کو اس مذہب کی سچائی میں شک باقی رہ جائیگا۔ تو