مسیحی انفاس — Page 274
ہرگز نفی کا جواب نہیں دینگے پس یقینا سمجھو کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں کہ استقدر انکشاف کے بعد پھر بھی اپنے کفر اور انکار پر اڑا رہے۔ افسوس ہو کہ ایسی کہانیوں کی بندش میں ہمارے ملک کے سیکھ خالصہ عیسائیوں سے اچھے رہے اور انہوں نے ایسی کہانیوں کے بنانے میں خوب ہوشیاری کی۔ کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ اُنکے گوروبا وانا نکا نے ایک دفعہ ایک ہاتھی مردہ زندہ کیا تھا اب یہ اس قسم کا معجزہ ہے کہ نتائج مذکورہ کا اعتراض اسپروار و نہیں ہوتا کیونکہ سکھ کہہ سکتے ہیں کہ کیا ہاتھی کی کوئی بولنے والی زبان ہو کر تا با وا نانک کی تصدیق یا تکذیب کر تا غرض عوام تو اپنی چھوٹی سی عقل کی وجہ سے ایسے معجزات پر بہت خوش ہوتے ہیں مگر مظالم عقلمند غیر قوموں کے اعتراضیوں کا نشانہ بنکر کوفتہ خاطر ہوتے ہیں اور جس مجلس میں ایسی بیہودہ کہانیاں کی جائیں وہ بہت شرمندہ ہوتے ہیں۔ اب چونکہ ہم کو حضرت سیح علیہ السلام سے ایسا ہی محبت اور اخلاص کا تعلق ہے جیسا کہ عیسائیوں کو تعلق ہے بلکہ ہم کو بہت بڑھ کر تعلق ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ ھ کس کی تعریف کرتے ہیں مگر ہم جانتےہیں کہ ہم کس کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ہم نے انکو دیکھا ہے لہذا اب ہم اس عقیدہ کی اصل حقیقت کو کھولتے ہیں کہ جو انجیلوں میں لکھا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت تمام راستباز فوت شدہ زندہ ہو کر شہر میں آگئے تھے۔ پس واضح ہو کہ یہ ایک کشفی امر تھا جو صلیب کے واقعہ کے بعد بعض پاک دل ی واضح ہوکہ یہ ایک اور تاج و کے کے بعد بعض لوگوں نے خواب کی طرح دیکھا تھا کہ گویا مقدس مردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے ہیں۔ اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور جیسا کہ خوابوںکی تعبیر خدا کی پاک کتابوں میں کی گئی ہے۔ مثلاً لاقاتیںکرتے ہیںاور جیساکہ خدای کی گئی جیسا کہ حضرت یوسف کی خواب کی تعبیر کی گئی۔ ایسا ہی اس خواب کی بھی ایک تعبیر تھی۔ اور وہ یہ تعبیر تھی کہ مسیح صلیب پر نہیں ملا اور خدا نے اسکو صلیب کی موت سے نجات دیدی ۔ اور اگر ہم سے یہ سوال کیا جائے کہ یہ تعبیر نہیں کہاں سے معلوم ہوئی تو اس کا یہ جواب ہے کہ فن تعبیر کے اماموں نے ایسا ہی لکھا ہے اور تمام معبرین نے اپنے تجربہ سے سپر گواہی ایک نے کتار اہی دی ہے۔ چنانچہ ہم قدیم زمانہ کی ایک عام فن تعبیر یعنے صاحب کتاب تعطیر الانام کی تعبیر کو اسکی اصل عبارت کے ساتھ ذیل میں لکھتے ہیں ۔ اور وہ یہ ہے۔ من رأی ان ۲۷۴