مسیحی انفاس — Page 272
پر بہتان باندھتا ہے۔ تبھی تو لاکھوں انسان بلکہ پیغمبروں اور رسولوں کے زندہ ہونے کے بعد بھی یہودی اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے اور حضرت مسیح کو مار کر پھر دوسروں کے قتل کی طرف متوجہ ہوئے۔ بھلا یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ لاکھوں راستیا کہ جو حضرت آدم سے لے کہ حضرت کی تک اُس زمین پاک کی قبروں میں سوئے ہوئے تھے وہ سب کے سب زندہ ہو جائیں اور پھر وعظ کرنے کے لئے شہر میں آئیں اور ہر ایک کھڑا ہو کر ہزار ہا انسانوں کے سامنے یہ گواہی دے کہ در حقیقت میسوع مسیح خدا کا بیٹا بلکہ خود خدا ہے اس کی پوسیا کی کرو اور پہلے خیالات چھوڑو ورنہ تمہارے لئے جہنم ہے جس کو خود ہم دیکھ کر آئے ہیں۔ اور پھر باوجود اس اعلیٰ درجہ کی گواہی اور شہادت رویت کے جو لاکھوں راستباز مردوں کے منہ سے نکلی یہودی اپنے انکار سے بانہ نہ آئیں۔ ہمارا کانشنس تو اس بات کو نہیں مانتا۔ پس اگر فی الحقیقت لاکھوں راستباز فوت شدہ پیغمبر اور رسول و غیرہ زندہ ہوکر گواہی کے لئے شہر میں آئے تھے تو کچھ شک نہیں کہ انہوں نے کچھ اُلٹی ہی گواہی دی ہوگی ۔ اور ہرگز حضرت مسیح کی خدائی کو تصدیق نہیں کیا ہوگا۔ تبھی تو یہودی لوگ مردوں کی گواہیوں کو شنکر اپنے کفر پر پہلے ہو گئے۔ اور حضرت مسیح تو اُن سے خدائی منوانا چاہتے تھے۔ مگر وہ تو اس گواہی کے بعد نبوت سے بھی منکر ہو بیٹھے۔ غرض ایسے عقیدے نہایت مصر اور بداثر ڈالنے والے ہیں کہ ایسا یقین کیا جائے کہ یہ لاکھوں مردے یا اس سے پہلے کوئی مردہ حضرت مسیح نے زندہ کیا تھا کیونکہ ان مردوں کے زندہ ہونے کے بعد کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں ہوا۔ یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ اگر مثلاً کوئی شخص کسی دور دراز ملک میں جاتا ہے اور چند برس کے بعد ا اپنے شہر میں واپس آتا ہے تو طبعا اُس کے دل میں یہ جوش ہوتا ہے کہ اُس ملک کے عجائب تو غرائب لوگوں کے پاس بیان کرے اور اُس ولایت کے مجیب در عجیب واقعات سے ان لوگوں کو اطلاع دے نہ یہ کہ اتنی مدت کی جدائی کے بعد جب اپنے لوگوں کو سہلے تو زبان بند رکھے ۲۷۲