مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 632

مسیحی انفاس — Page 271

واقعہ کا بیان نہیں ہو کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر گویا اسی دنیا میں قیامت نمودار ہو جاتی اور وہ امر جو صدق اور ایمان دیکھنے کیلئے دنیا مخفی کھا گیا تھا وہ سب پر کھل جاتا اور ایمان ایمان نہ رہتا اور ہر ایک مومن اور کافر کی نظر میں آنیوا نے عالم کی حقیقت ایک بدیہی چیز ہو جاتی جیسا کہ چانداور سورج اور دن اور رات کا وجود بدیہی ہے تب ایمان ایسی قیمتی اور قابل قدر چیز نہ ہوتی پر اجر پانے کی کچھ امی ہوسکتی۔ اگرو اوربنی اسرائیل کےگذشتہ نبی کی تعدا لاکھوں تک پہنچتی ہے پے پے واقعہ صلیب کے وقت زندہ ہو گئے تھے اور زندہ ہو کر شہر میں آگئے تھے اور حقیقت میں مسیح کی سچائی اور خدائی ثابت کرنے کے لئے یہ مجوزہ دکھلایا گیا تھاجو د ہا نبیوں اور لاکھوں راستبازوں کو ایکدم میں زندہ کر دیا گیا تو اس صورت میں یہودیوں کو ایک عمدہ موقعہ ملا تھا کہ وہ زندہ شدہ نبیوں اور دوسرے راستبازوں اور اپنے فوت شدہ باپ دادوں سے مسیح کی نسبت دریافت کرتے کہ کیا یہ شخص جو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے درحقیقت خدا ہے یا کہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے۔ اور قرین قیاس ہے کہ اس موقعہ کو انہوں نے ہاتھ سے نہ دیا ہوگا۔ اور ضرور دریافت کیا ہوگا کہ شیخ کیسا ہے۔ کیونکہ یہودی ان باتوں کے بہت تو لیں تھے کہ اگر مرد سے دنیا میں دوبارہ آجائیں تو ان سے دریافت کریں تو پھر میں حالت میں لاکھوں مردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے اور ہر ایک محلہ میں ہزاروں مردے چلے گئے تو ایسے موقعہ کو یہودی کیونکر چھوڑ سکتے تھے ضرور انہوں نے نہ ایک نہ دو سے بلکہ ہزاروں سے پوچھا ہو گا۔ اور جب یہ مردے اپنے اپنے گھروں میں داخل ہوئے ہونگے۔ تو ان لاکھوں انسانوں کے دنیا میں دوبارہ آنے سے گھر گھر میں شور پڑ گیا ہو گا۔ اور ہر ایک گھر میں یہی شغل اور یہی ذکر اور یہی تذکرہ مشروع ہو گیا ہوگا کہ مردوں سے پوچھتے ہونگے کہ کیا آپ لوگ اس شخص کو جو لیسوع مسیح کہلاتا ہے حقیقت میں خدا جانتے ہیں۔ مگر چونکہ مردوں کی اس گواہی کے بعد جیسا کہ امید تھی یہودی حضرت مسیح پر ایمان نہیں لائے اور نہ کچھ نرم دل ہوئے بلکہ اور بھی سخت دل ہو گئے تو غالبا معلوم ہوتا ہے کہ مردوں نے کوئی اچھی گواہی نہیں دی بلکہ بلا توقف یہ جواب دیا ہوگا کہ ہرشخص اپنے اس دعوئے خدائی میں بالکل جھوٹا ہے اور خدا ۲۷۱