مسیحی انفاس — Page 270
نبی کا کلام کسی طور سے جھوٹا نہیں ہوسکتا جبکہ کلام میں صاف یہ اشارہ ہے کہ ہر ایک قوم جو زمین پر سے چھاتی پیٹے گی تو ان قوموں میں سے کونسی قوم باہر رہ سکتی ہے مسیح نے تو اس آیت میں کسی قوم کا استثنا نہیں کیا۔ ہاں وہ جماعت بہر صورت مستثنی ہو جو ابھی قوم کے اندازہ تک نہیں پہنچی یعنے ہماری جماعت اور یہ پیشگوئی اس زمانہ میں نہایت صفائی سے پوری ہوئی کیونکہ وہ سچائی جو حضرت مسیح کی نسبت اب پوری ہوئی ہے وہ بلاشبہ ان تمام قوموں کے ماتم کا موجب ہے کیونکہ اس سے سب کی غلطی ظاہر ہوتی ہے اور سب کی پردہ دری ظہور میں آتی ہے۔ عیسائیوں کے خدا بنانے کا شور و غوغا صورت کی آہوں سے بدل جاتا ہے مسلمانوں کا دن رات کا ضد کرنا کہ یہ آسمان پر زندہ کیا آسمان پر زندہ کیا ہونے اور ماتم کے رنگ میں آجاتا ہے اور یہودیوں کا تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اور اسجگہ یہ بھی بیان کر دینے کے لائق ہو کہ آیت مذکورہ بالا میں جو لکھا ہو کہ اسوقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی۔ اسجگہ زمین سے مراد بلاد شام کی زمین ہے جس سے یہ تینوں قومیں تعلق رکھتی ہیں۔ یہودی اسلئے کہ و ہی انکا مبداء اور منبع ہے اور اسی جگہ اُن کا معبد ہے ۔ عیسائی اسلئے کہ حضرت مسیح اسی جگہ ہوئے ہیں اور عیسائی مذہب کی پہلی قوم اسی ملک میں پیدا ہوئی ہے مسلمان اس لئے کہ وہ اس زمین کے قیامت تک وارث ہیں۔ اور اگر زمین کے زمین لفظ کے معنے ہر یک ملین لی جائے تب بھی کچھ حرج نہیں کیونکہ حقیقت کھلنے پر بریک کے نادم ہوگا۔ ہو گا۔ مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۸ تا ۴۱ اور جملہ ان شہادتوں کے جو نیل سے ہم کولی ہیں جیل متی کی وہ بار ہے، جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں ۔ اور قبریں کھل گئیں اور بہت لاشیں پاک لوگوں کی جو آرام میں تھیں اٹھیں اور اُسکے اٹھنے کے بعد دینے مسیح کے اُٹھنے کے بعد قبروں میں سے نکل کر اور مقدس شہر میں جا کر بہتوں کو نظر آئیں ۔ دیکھو کے قبر میں کل کی اور میں جاکر کو انجیل متی با بالا آیت ۲ ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ قصہ و انجیل میں بیان کیا گیا ہے کلیجے کے اُٹھنے کے بعد پاک لوگ قبروں میں سے باہر نکل آئے اور زندہ ہو کر بہتوں کو نظر آئے یہ کسی تاریخی ۲۷۰ ۲۲۰