مسیحی انفاس — Page 269
۲۶۹ اور خدا ان سے بیزار ہے اور بیزاری اور دشمنی کی نظر سے اُن کو دیکھتا ہے اور وہ کا ذب اور مفتری اور نعوذ باللہ کا فرادر ملحد ہیں اور خدا کی طرف سے نہیں ہیں۔ سو یہ میں اور کی طرف سے یہ افراط اور تفریط ایسا ظلم سے بھرا ہوا طریق تھا کہ ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے بچے نہیں کہ ان ان الزاموں سے بری کرتا ۔ سوانجیل کی آیت مذکورہ بالا کا اسی بات کی طرف اشارہ ہے اور یہ جو کہا کہ زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی۔ یہ اس بات کی طرف ایمائی گئی ہے کہ وہ تمام فرقے جن پر قوم کا لفظ اطلاق پا سکتا ہے اُس روز چھاتی پلیٹیں گی اور جزع فزع کرنیکی اور ان کا ماتم سخت ہوگا۔ اس جگہ عیسائیوں کو دہ توجہ سے اس آیت کو پڑھنا چاہئیے اور سوچنا چاہیے کہ جبکہ اس آیت میں کل قوموں کے چھاتی پیٹنے کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے تو اس صورت میں عیسائی اس عام سے کیونکر باہر رہ سکتے ہیں۔ کیا وہ تو نہیں ہیں۔ اور جبکہ وہ بھی اس آیت کے رو سے چھاتی پیٹنے والوں میں داخل ہیں۔ تو پھر وہ کیوں اپنی نجات کا فکر نہیں کرتے۔ اس آیت میں صاف طور پر بتلایا گیا ہے کہ جب مسیح کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا تو زمین پر جتنی قومیں ہیں وہ چھاتی پیٹیں گی سو ایسا شخص مسیح کو جھٹلاتا ہے جو کہتا ہے کہ ہماری قوم چھاتی نہیں پیٹے گی ۔ ہاں وہ لوگ چھاتی پیٹنے کی پیشگوئی کا مصداق نہیں ٹھہر سکتے جنگی جماعت ابھی تھوڑی ہے اور اس لائق نہیں ہے جو اسکو قوم کہا جائے۔ اور وہ ہمارا فرقہ ہے بلکہ یہی ایک فرقہ ہے جو پیشنگوئی کے اثر اور دلالت سے باہر ہے کیونکہ اس فرقہ کے ابھی چند آدمی ہیں جو کسی طرح قوم کا لفظ ٹائی پر صادق نہیں آسکتا میں نے خدا سے الہام پا کر بتلایا کہ جب آسمان پر ایک نشان ظاہر ہوگا تو زمین کے کل وہ گروہ جو باعث اپنی کثرت کے قوم کہلانے کے مستحق ہیں چھاتی پیٹیں گے اور کوئی ان میں سے باقی نہیں رہیگا گرو ہی کم تعداد لوگ جن پر قوم کا لفظ صادق نہیں آسکتا۔ اس پیش گوئی کے مصداق سے نہ عیسائی باہر رہ سکتے ہیں اور نہ اس زمانہ کے مسلمان اور نہ یہودی باہر رہ ہیں! اور نہ کوئی اور مکذب۔ صرف ہماری یہ جماعت با ہر ہے کیونکہ ابھی خدانے ان کو خم کی کیطرح طرح ہوتا ہے