مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 632

مسیحی انفاس — Page 268

سخت اُس وقت انسان کے بیٹے کانشان آسمان پر ظاہر ہوگا۔ اور اُس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے کہ دیکھو متی باب ۲۴ آیت ۳۰- اس آیت کا اصل مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ جبکہ آسمان سے یعنے محض خدا کی قدرت سے ایسے علوم اور دلائل اور شہادتیں پیدا ہو جائینگی ک جو آپ کی اگو ہیت یا صلیب پر فوت ہونے اور آسمان پر جانے اور دوبارہ آنے کے عقیدہ کا باطل ہونا ثابت کر دینگی۔ اور جو قومیں آپ کے نبی صادق ہونے کی منکر تھیں بلکہ مصلیب دیئے جانے کی وجہ سے اُنکو لعنتی سمجھتی تھیں جیسا کہ یہود ان کے جھوٹ پر بھی آسمان گواہی دیگا۔ کیونکہ یہ حقیقت بخونی کھل جائیگی کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے اس لئے لعنتی بھی نہیں ہوئے۔ تب زمین کی تمام قومیں جنہوں نے اُنکے حق میں فراط یا تفریط کی تھی ماتم کرینگی او ای علی کی جیسے اندامت اور خجالت اُنکے شامل حال ہوگی۔ اور اسی زمانہ میں جبکہ حقیقت کھل جائیگی لوگ روحانی طور پر پیج کو زمین پر نازل ہوتے دیکھیں گے۔ یعنی انہی دنوں میں مسیح موعود جو اُن کی قوت اور طبیعت میں ہو کر آئیگا۔ آسمانی تائید سے اور اس قدرت اور جلال سے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے اُس کے شامل ہو گی اپنے چکتے ہوئے ثبوت کے ساتھ ظاہر ہوگا اور پہچانا جائے گا۔ اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی قضا و قدر سے حضرت عیسی علیہ السلام کا ایسا موجود ہے اور ایسے واقعات ہیں جو بعض قوموں نے ان کی نسبت افراط کیا ہے اور بعض نے تفریط کی راہ لی ہے۔ یعنے ایک وہ قوم ہے کہ جو انسانی لوازم سے اُن کو ڈور تر لے گئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ اب تک وہ قوت نہیں ہوئے اور آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔ اور ان سے بڑھ کر وہ قوم ہے جو کہتے ہیں کہ صلیب پر فوت ہو کر اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر پہلے گئے ہیں اور خدائی کے تمام اختیار انکو مل گئے ہیں بلکہ وہ خود خدا ہیں۔ اور دوسری قوم یہودی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر مارے گئے اس لئے نعوذ باللہ وہ ہمیشہ کے لئے لعنتی ہوئے اور ہمیشہ کیلئے مور و غضب ۔ ۲۶۸