مسیحی انفاس — Page 262
خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے شاگردوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ اگر دعا کرو گے تو قبول کی جائیگی بلکہ ایک مثال کے طور پر ایک قاضی کی کہانی بھی بیان کی تھی کہ جو نہ خلقت سے اور نہ خدا سے ڈرتا تھا۔ اور اس کہانی سے بھی مدعا یہ تھا کہ تا حواریوں کو یقین آجائے کہ بے شک خدائے تعالیٰ دعا سنتا ہے۔ اور اگر چہ صیح کو اپنے پر ایک بڑی مصیبت کے آنے کا خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم تھا۔ مگر مسیح نے عارفوں کی طرح اس بنا پر دعا کی کہ خدائے تعالی کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور ہر ایک محور اثبات اس کے اختیار میں ہے۔ لہذا یہ واقعہ کہ نعوذ باللہ مسیح کی خود دعا قبول نہ ہوئی۔ یہ ایک ایسا امر ہے جو شاگردوں کے ردوں پر نہایت بداثر پیدا کرنے والا تھا۔ سو کیونکر ممکن تھا کہ ایسا نمونہ جو ایمان کو ضائع کرنے والا تھا۔ حواریوں کو دیا جاتا جبکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مسیح جیسے بزرگ نبی کی تمام رات کی پر سوز دعا قبول نہ ہو سکی تو اس بد نمونہ سے اُن کا ایمان ایک سخت امتحان میں پڑتا تھا۔ لہذا خدائے تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس دعا کو قبول کرتا یقینا سمجھو کہ وہ دعا و کت مینی نام مقام میں کی گئی تھی ضرور قبول ہو گئی تھی۔ ایک اور بات اس جگہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسا کہ مسیح کے قتل کے لئے مشورہ ہوا تھا اور اس غرض کے لئے قوم کے بزرگ اور معرہ: مولوی قیافا نامی سردار کاہن کے گھر اکٹھے ہوئے تھے کہ کسی طرح مسیح کو قتل کردیں۔ یہی مشورہ حضرت موسی کے قو یرہ حضرت موسیٰ کے قتل کرنے کے لئے ہوا تھا۔ اور یہی مشورہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے لئے مکہ میں دارالندوہ کے مقام میں ہوا تھا۔ مگر قادر خدا نے ان دونوں بزرگ نبیوں کو اس مشورہ کے بداثر سے بچالیا۔ اور مسیح کے لئے جو مشورہ ہوا ان دونوں مشوروں کے درمیان میں ہے۔ پھر کیا وجہ کہ وہ بچپ یا نہ گیا۔ حالانکہ اس نے ان دونوں بزرگ نبیوں سے بہت زیادہ دعائی۔ اور پھر جبکہ خدا اپنے پیارے بندوں کی ضرور سننا ہے اور شریروں کے مشورہ کو باطل کر کے دکھاتا ہے۔ تو پھر کیا وجہ کہ مسیح کی دُعا نہیں سنی گئی۔ ہر ایک صادق کا تجربہ ہے که بیقراری اور مظلومانہ حالت کی دعا قبول ہوتی ہے۔ بلکہ صادق کے لئے مصیبت کا میں ۲۶۲