مسیحی انفاس — Page 261
۲۶۱ ۲۱۶ تھی۔ بہر حال پیلاطوس رومی کی کوشش سے مسیح ابن مریم کی جان بچ گئی اور جان بچنے کے لئے پہلے سے مسیح کی دعا منظور ہو چکی تھی۔ دیکھو عبرانیاں باب ۵ آیتے۔ بعد اس کے دیکھو ۲۵ اس زمین سے مسیح پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیا اور وہیں فوت ہوا ۔ اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔ یہ سب پیلاطوس کی سعی کا نتیجہ تھا۔ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۵۷ : ۵۸ اور مجلہ ان شہادتوں کے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیہ سے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب میں لینے آیت ۳۶ سے آیت ۴۶ تک مرقوم ہے جس میں بیان کیا گیا ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار کئے جانے کا الہام پا کر تمام رات جناب الہی میں رو رو کر اور سجدے کرتے ہوئے دُعا کرتے رہے۔ اور ضرور تھا کہ ایسی تفریح کی دعا جس کے لئے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا قبول کی جاتی کیونکہ مقبول کا سوال جو بیقراری کے وقت کا سوال ہو۔ ہر گزرہ نہیں ہوتا۔ پھر کیوں مسیح کی ساری رات کی دعا اور درد مند دل کی دعا اور مظلومانہ حالت کی و عارڈ ہوگئی۔ حالانکہ مسیح دستوئی کرتا ہے کہ باپ جو آسمان پر ہے میری سنتا ہے۔ لیپس کیونکہ باور کیا جائے کہ خدا اسکی سنتا تھا جبکہ الیسی بیقراری کی دعا سنی نہ گئی۔ اور انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ک کو ولی یقین تھا کہ اُس کی وہ دعا ضرور قبول ہو گئی اور اس دُعا پر اُس کو بہت بھروسہ تھا ۔ اسی وجہ سے جب وہ پکڑا گیا اور صلیبپر کھینچا گیا اور ظاہری علامات کو اتنی اپنی امید کے موافق نہ پایا تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا کہ ڈیلی ڈیلی لما سبقتانی ، اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔ یعنے مجھے یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ میرا انجام یہ ہوگا اور میں صلیب پر کروں گا۔ اور میں یقین رکھتا تھا کہ تو میری دعائنے گا۔ پس ان دونوں مقامات انجیل سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح کو خود ولی یقین تھا کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی اور میرا تمام رات کا رو رو کر دعا کرنا ضائع نہیں جائے گا۔ اور خود اُس نے