مسیحی انفاس — Page 258
۔ صلیب پر سے اتارا گیا۔ اور یہ قریب قیاس نہیں کہ دونوں چور جو مسیح کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے وہ زندہ رہے۔ مگر مسیح سیح صرف دو گھنٹہ تک مر گیا بلکہ یہ صرف ایک بہانہ تھا جو مسیح کو ہڈیاں توڑنے سے بچانے کے لئے بنایا گیا تھا سمجھ دار آدمی کے لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ دونوں پھر صلیب پرچہ زندہ اتارے گئے اور ہمیشہ معمول تھا کہ صلیب پر سر لوگ زندہ اتارے جاتے تھے اور صرف اس حالت میں مرتے تھے کہ ہڈیاں توڑی جائیں اور یا بھوک اور پیاس کی حالت میں چند روز صلیب پر رہ کر جان نکلتی تھی۔ مگر ان باتوں میں سے کوئی بات بھی مسیح کو پیش نہ آئی نہ وہ کئی دن صلیب پر بھوکا پیاسا رکھا گیا اور نہ اُس کی ہڈیاں توڑی گئیں اور یہ کہ کہ کہ مسیح مر چکا ہے۔ یہودیوں کو اس کی طرف سے غافل کر دیا گیا۔ مگر چوروں کی ہڈیاں توڑ کر اسی وقت انکی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ بات تو تب تھی کہ ان دونوں پھروں میں سے بھی کسی کی نسبت کہا جاتا کہ یہ مر چکا ہے۔ اس کی ہڈیاں توڑنے کی ضرورت نہیں۔ اور یوسف نام بلاطوس کا ایک معزز دوست تھا۔ جو اُس نواح کا رئیس تھا اور مسیح کے پوشیدہ شاگردوں میں داخل تھا وہ عین وقت پر پہنچ گیا۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی پلا طوس کے اشارہ سے بلایا گیا تھا مسیح کو ایک لاش قرار دیکر اسکے سپرد کر دیاگیا کیونکہ وہ ایک بڑا آدی تھا اور یہودی اسکے ساتھ کچھ پرخاش نہیں کرسکتے تھے۔ جب وہ پہنچا تو مسیح کو خوشی میں تھا ایک لاش قرار دیکر اس نے لیا اور اسی جگہ ایک وسیع مکان تھا جو اُس زمانہ کی رسم پر قر کے طور پر بنایا گیا تھا اور اس میں ایک کھڑکی بھی تھی اور ایسے موقع پر تھا جو یہودیوں کے تعلق سے الگ تھا۔ اسی جگہ پلا طوس کے اشارہ سے مسیح کو رکھا گیا۔ مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۷ تا ۲۹ پیلاطوس کی بیوی کو فرشتہ نے خواب میں کہا کہ اگر یسوع سولی پر مر گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے اور اس بات کی خدا تعالیٰ کی کتابوں میں کوئی نظیر نہیں ملتی کہ خدا تعالی کی طرف سے کسی کو خواب میں فرشتہ کہے کہ اگر ایسا کام نہیں کرو گے تو تم تباہ ہو جاؤ گے اور ۲۵۸ ۲۱۴