مسیحی انفاس — Page 259
۲۵۹ پھر فرشتہ کے کہنے کا ان کے دلوں پر کچھ بھی اثر نہ ہو۔ اور وہ کہنارائیگان جائے۔ اور اسی طرح یہ بات بھی سراسر فضول اور جھوٹ معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا تو پختہ ارادہ ہو کہ وہ یسوع مسیح کو سولی دے اور اس طرح پر لوگوں کو عذاب ابدی سے بچاوے ۔ بچاوے ۔ اور فرشتہ خواه نخواہ یسوع مسیح کے بچانے کے لئے تڑپتا پھرے۔ کبھی پیلاطوس کے دل میں ڈالے کہ مسیح بے گناہ ہے اور کبھی پیلاطوس کے سپاہیوں کو اس پر مہربان کرے اور ترغیب دے کہ وہ اس کی ہڈی نہ توڑیں۔ اور بھی پیلاطوس کی بیوی کے خواب میں آوے اور اس کو یہ کہے کہ اگر یسوع مسیح سولی پر مر گیا تو پھر اس میں تمہاری تباہی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ خدا اور فرشتہ کا باہم اختلاف رائے ہو۔ اور پھر رہائی کے اسباب میں سے جو ان چار انجیلوں میں مرقوم ہیں۔ ایک یہ بھی سبب ہے کہ یہودیوں کو یہ موقع نہ ملا کہ وہ قدیم دستور کے موافق پانچ چھ روز تک حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکار رکھتے تا بھوک اور پیاس اور دھوپ کے اثر سے مر جاتا اور نہ دستور قدیم کے موافق ان کی ہڈیاں توڑی گئیں جیسا کہ چوروں کی توڑی گئیں۔ اگر چہ یہ چہ یہ رعایت مخفی طور پر پیلاطوس کی طرف سے تھی کیونکہ رعب ناک خواب نے اس کی بیوی کا دل ہلا دیا تھا۔ لیکن آسمان سے بھی یہی ارادہ زور مار رہا تھا۔ ورنہ کیا ضرورت تھی کہ عین صلیب دینے کے وقت سخت آندھی آتی اور زمین پر سخت تاریکی چھا جاتی اور ڈرانے والا زلزلہ آتا۔ اصل بات یہ تھی کہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ یہودیوں کے دل ڈر جائیں۔ اور نیز ان پر وقت مشتبہ ہو کر سبت کے توڑنے کا فکر بھی ان کو دامن گیر ہو جائے ۔ کیونکہ جس وقت حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑہائے گئے وہ جمعہ کا دن تھا اور قریباً دوپہر کے بعد تین بجے تھے۔ اور یہودیوں کو سخت ممانعت تھی کہ کوئی مصلوب سبت کے دن یا سبت کی رات جو جمعہ کے بعد آتی ہے صلیب پر لٹکا نہ رہے۔ اور یہودی قمری حساب کے پابند تھے۔ اس لئے وہ سبت کی رات اس رات کو سمجھتے تھے کہ جب ؟ ارات کو مجھتے تھے کہ جب جمعہ کے دن کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ پس آندھی اور سخت تاریکی کے پیدا ہونے سے یہودیوں کے دلوں میں یہ کھٹکا شروع ہوا کہ ایسانہ ہو کہ وہ لاشوں کو سبت کی رات میں صلیب پر رکھ کر سبت کے مجرم ہوں اور مستحق سزا ٹھہریں۔ اور دوسرے دن عید فسح بھی تھی جس میں خاص طور پر صلیب دینے کی ممانعت تھی ۔ پس جبکہ آسمان سے یہ اسباب پیدا ہو گئے ۔ اور نیز یہودیوں کے دلوں پر انہی رعب بھی غالب آگیا۔ تو ان کے دلوں میں یہ دھڑ کہ شروع ہو گیا کہ ایسا نہ ہو کہ نیر