مسیحی انفاس — Page 257
۲۵۷ صلیب پر کھینچے گئے تھے توڑیں۔ لیکن جب انہوں نے یسوع کی طرف آگے دیکھا۔ کہ وہ مرچکا ہے تو اُس کی ٹانگیں نہ توڑیں۔ پر سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اُس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے ہوا اور پانی نکلائی دیکھو یوحنا باب آیت ۳۱ سے ۳۴ تک ۔ ان آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسوقت کسی مصلوب کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے یہ دستور تھا کہ جو صلیب پر کھینچا گیا ہو اُس کو کئی دن صلیب پر رکھتے تھے اور پھر اُس کی ہڈیاں توڑتے تھے لیکن مسیح کی ہڈیاں دانستہ نہیں توڑی گئیں اور وہ ضرور صلیب پر سے ان دو چوروں کی طرح زندہ اتارا گیا۔ اسی وجہ سے پہلی چھیدنے سے خون بھی نکلا۔ مردہ کا خون جم جاتا ہے۔ اور اس جگہ یہ بھی صریح معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی طور پر یہ کچھ سازش کی بات تھی۔ پلاطوس ایک خدا ترس اور نیک دل آدمی تھا کھلی کھلی رعایت سے قیصر سے ڈرتا تھا کیونکہ یہودی مسیح کو باغی ٹھہراتے تھے مگر وہ خوش قسمت تھا کہ اُس نے مسیح کو دیکھا۔ لیکن قصیر نے اس نعمت کو نہ پایا۔ اُس نے نہ صرف دیکھا بلکہ بہت رعایت کی۔ اور اُس کا ہرگز منشاء نہ تھا کہ مسیح صلیب پاوے۔ چنانچہ انجیلوں کے دیکھنے سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ پلاطوس نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ مسیح کو چھوڑ دے لیکن یہودیوں نے کہا کہ اگر تو اس مرد کو چھوڑ دیتا ہے تو تو قیصر کا خیر خواہ نہیں اور یہ کہا کہ یہ باغی ہے اور خود بادشاہ بننا چاہتا ہے دیکھو یوحنا باب 17 آیت ۱۲- اور پیلاطوس کی بیوی کی خواب اور بھی اس بات کی محرک ہوئی تھی کہ کسی طرح مسیح کو مصلوب ہونے سے بچایا جائے ۔ ورنہ ان کی اپنی تیا ہی ہے۔ مگر چونکہ یہودی ایک شہر یہ قوم تھی اور پلا طوس پر قیصر کے حضور میں مخبری کرنے کو بھی طیار تھے۔ اس لئے پلائوس نے مسیح کے چھڑانے میں حکمت عملی سے کام لیا۔ اقل تو سیح و مصلوب ہونا ایسے دن پر ڈال دیا کہ وہ جمعہ کا دن تھا اور صرف چند گھنٹے ان سے باقی تھے اور بڑے نسبت کی رات قریب تھی اور پلا طوس خوب جانتا تھا کہ یہودی اپنی شریعت کے حکموں کے موافق صرف شام کے وقت تک ہی میچ کو صلیب پر رکھ سکتے ہیں۔ اور پھر شام ہوتے ہی اُن کا سبت ہے جس میں صلیب پر رکھنا کو انہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور صبیح شام سے پہلے